منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

آنکھ پھڑکنے سے مصیبت آتی ہے ، یا آنکھ پھڑکنا بذات خود مصیبت ہے ؟جانئے تحقیق‎

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عام خیال کے مطابق ہمارے ہاں مشرق میں اگر اچانک کسی کی آنکھ پھڑکنے لگے تو اسے کسی نئی مصیبت کا پیش خیمہ تصور کیا جاتا ہے ۔لیکن کیا حقیقت میں آنکھ پھڑکنے سے کسی نئی مصیبت کا نزول ہوتا ہے ؟ اس سوال کا جواب ماہرین صحت کے علا وہ شاید کوئی عام آدمی نہ دے سکے ۔ماہرین صحت کی رائے کے مطابق آنکھ پھڑکنا ایک بے ضرر عمل ہے ۔ اس سے ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ یہ کوئی روحانی عمل نہیں بلکہ اسے

ایک عام عمل کہا جا سکتا ہے جو ایک مخصوص مدت تک جاری رہنے کے بعد خود بخود ختم ہو جاتا ہے ۔ماہرین کی جانب سے آنکھ پھڑنے کی وجوہات اور اس سے نجات حاصل کرنے کیلئے چند تجاویز شیئر کی گئی ہیں ۔عام طور پر آنکھ پھڑکنا اس عمل کو کہتے ہیں جس میں آنکھ کا اوپری پپوٹا بار بار حرکت کرتا ہے ۔آنکھ پھڑکنا کو ئی بہت بڑی بیماری نہیں ہے عام طور پر ضرورت سے ذیادہ تھکان ،جینیاتی خرابی ،آنکھوں میں دائمی خراش یا نظر کے مسائل کی وغیرہ کی وجہ سے پھڑکتی ہے ۔آنکھ پھڑکنے سے صرف آنکھ کے پپوٹے ہی غیر ارادی طور پر حرت کرتے ہیں اس کے علاوہ آنکھ کا کوئی حصہ متاثر نہیں ہوتا ۔ علاوہ ازیں اس عمل کے دوران کسی قسم کی درد یا تکلیف بھی نہیں ہوتی ۔آنکھ یوں تو ایک خاص مدت کے بعد خود بخود پھڑکنا بند ہو جاتی ہے تاہم اس کے باوجود ماہرین امراض چشم کی رائے کے مطابق اس عمل سے نجات پانے کیلئے مندرجہ ذیل تجاویز پرعمل کیا جا سکتا ہے ۔اگر اچانک کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے آپکی آنکھ پھڑکنے لگے تو فوراً کمپیوٹر پر سے نظریں ہٹا کر کچھ دیر کیلئے آنکھیں موند کر آرام کریں ۔آنکھ کے پپوٹے کو درمیانی انگلی کی مدد سے گولائی میں آہستہ آہستہ سہلائیں ۔مناسب نیند لیں اور کیفین کا استعمال کم سے کم کریں ۔ اگر شراب نوشی کے عادی ہیں تو اس کی مقدار کم سے کم کر دیں ۔ ذیادہ سے ذیادہ پانی پیئیں ۔ تاہم اگر آنکھ پھڑکنے کا عمل ایک ہفتے تک جاری رہے ، آنکھ میں سرخی ، سوزش یا پانی بہنے لگے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…