جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

معروف موبائل کمپنی کو پاکستان میں بلیک لسٹ کردیاگیا،نوٹیفیکیشن جاری

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کیو موبائل نے اپنی تشہیر کیلئے بھارتی اداکاروں کو تو 30کروڑ روپے دے دیئے لیکن کمپنی پاکستان میں ٹیکس کے کروڑوں روپے ڈکار گئی۔ ایف بی آر نے کیو موبائل بنانے والی کمپنی ڈجی الیکٹرانکس کو بلیک لسٹ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق کیو موبائل نے بھارتی اداکارہ کرینہ کپور اور جیکولین فرننڈز کو اپنے اشتہارات میں کام کرنے کیلئے 10،10 کروڑ سے زیادہ کی رقم دی۔

اتنے ہی پیسے ارجن سنگھ، شاہد کپور اور رنویرسنگھ کو بھی دیئے گئے لیکن یہی کمپنی پاکستان میں گرین چینل کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایک لاکھ 45 ہزار سمگل شدہ موبائل پاکستان لائی جبکہ 74 کروڑ روپے زیادہ کا ٹیکس ری فنڈ بھی حاصل کیا۔ ایف بی آر کی نئی تحقیقات کے مطابق کیو موبائل پاکستان میں 52 کروڑ روپے سے زیادہ کی ٹیکس نادہندہ ہے جبکہ گزشتہ دنوں کراچی ایئرپورٹ سے 1800 سے زیادہ موبائل اسمگل کرنے کی کوشش کرنے والی کمپنی بھی کیو موبائل ہی تھی اونچی دکان پھیکا پکوان کے مصداق اس کمپنی کی ایک اور خرابی یہ ہے کہ اس کے زیادہ تر موبائل فون آئی ای ایم آئی نمبر کے بغیر ہوتے ہیں اور اگر کسی پر یہ نمبر درج بھی ہو تو وہ اکثر غلط ہوتا ہے جس کی وجہ سے موبائل چوری ہونے کی صورت میں تلاش ناممکن ہو جاتی ہے اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ کمپنی موبائل بنانے سے زیادہ اسمگل شدہ مال استعمال کرتی ہے جس کا آئی ایم ایم آئی نمبر دینا مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیو موبائل چوروں اور دہشت گردوں کا پسندیدہ برانڈ بن چکا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کیو موبائل بنانے والی کمپنی ڈجی الیکٹرانکس کو چند برس قبل صرف موبائل درآمد کی اجازت دی گئی لیکن کمپنی اب مینو فیکچرنگ بھی کرتی ہے اس اجازت نامہ کیلئے رشوت اور ہیراپھیری کا سہارا لیا گیا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…