جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں ایک کھرب ڈالر کی خردبرد ہوئی ہے، اٹارنی جنرل

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ملک میں حالیہ عشروں کے دوران ایک کھرب ڈالر کی خردبرد ہوئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شیخ سعود المجیب نے کہا کہ ہفتے کی رات کو شروع ہونے والی انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت 201 افراد سے پوچھ گچھ کے لیے انھیں حراست میں لیا گیا ہے۔

انھوں نے ان افراد میں سے کسی کا نام نہیں لیا، تاہم اطلاعات کے مطابق ان میں شہزادے، وزرا اور بااثر کاروباری شخصیات شامل ہیں۔یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے سعودی عرب میں درجنوں شہزادوں، سرکاری عہدیداروں اور سرمایہ داروں کی گرفتاری کو سرکاری طور پر بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن سے منسلک کیا جا رہا ہے لیکن سعودی عرب کے حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان کا خاندانی و کاروباری پس منظر ثابت کرتا ہے کہ ان میں سے بیشتر لوگ اپنے سیاسی نظریات اور خاندانی وابستگیوں کی وجہ سے گرفتار کیے گئے ہیں۔سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب نے انسدادِ بدعنوانی مہم کے حوالے سے کہا کہ اس غلط کاری کے شواہد بہت مضبوط ہیں۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ اس پکڑ دھکڑ سے سعودی عرب میں عام مالیاتی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوں گی اور صرف ذاتی اکاؤنٹ ہی منجمد کیے گئے ہیں۔شیخ سعود المجیب نے کہا کہ حال ہی میں قائم کی جانے والی انسدادِ بدعنوانی کمیٹی، جس کے سربراہ 32 سالہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں، ‘بہت تیزی سے حرکت کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اب تک 208 افراد کو تفتیش کے لیے بلایا گیا، اور ان میں سے سات کو بغیر موردِ الزام ٹھہرائے چھوڑ دیا گیا ہے۔بدعنوان سرگرمیوں کا ممکنہ درجہ بہت بلند ہے۔ پچھلے تین سال میں ہونے والی تحقیقات سے ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ کئی عشروں کے دوران وسیع بدعنوانی اور خردبرد سے ایک

کھرب ڈالر مالیت کی رقم کا غلط استعمال ہوا ہے۔شیخ مجیب نے کہا کہ کمیٹی کے پاس اگلی تحقیقات کے لیے واضح مینڈیٹ موجود ہے اور اس نے منگل کے روز بعض بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیے ہیں۔انھوں نے کہاکہ ان لوگوں کی شناخت اور ان کے خلاف الزامات کے بارے میں دنیا بھر میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ سعودی قانون کے تحت ان

افراد کو مکمل قانونی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کریں گے۔اطلاعات کے مطابق حراست میں لیے جانے والے افراد میں شہزادہ الولید بن طلال، شہزادہ مطعب بن عبداللہ اور ان کے بھائی شہزادہ ترکی بن عبداللہ شامل ہیں جو ریاض صوبے کے گورنر رہ چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…