منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

’موبائل فون سے مالک کی صحت کی معلومات مل سکتی ہیں‘

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ایک تحقیق کے مطابق موبائل فونز سے ملنے والے مالیکیولز سے اُس کے مالک کی صحت اور طرز زندگی کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ کیلفورنیا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چالیس افراد کے موبائل فونز کے جائزے سے کیفین، مصالحہ جات، جلد کی حفاظتی کریم

اور ڈیپریشن سے بچاؤ کی ادویات سمیت مختلف اشیا کی باقیات ملی ہیں۔ ہم جب کسی چیز کو چھوتے ہیں تو ہم بہت سے مالیکیول، کیمیکل، بیکٹیریا سمیت دیگر چیزیں اُس تک منتقل کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ہاتھ دھونے سے بھی مختلف اجزا کی منتقلی سے بچا نہیں جا سکتا۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ریسرچ ٹیم نے 40 افراد کے موبائل اور ہاتھوں پر سے 500 سے زائد اشیا کی نمونے اکٹھے کیے۔ اُس کے بعد انھوں نے ان مالیکولز کی ڈیٹا بیس سے شناخت سے ’ہر فون استعمال کرنے والے افراد کے طرز زندگی کا پروفائل بنایا گیا۔‘ خیال کیا جا رہا ہے کہ کئی مالیکیولز انسانی جلد اور پسینے سے فون پر منتقل ہوتے ہیں۔ مچھروں سے بچنے کا لوشن اور سن سکرین کے اثرات فونز پر بہت زیادہ عرصے تک موجود رہتے ہیں۔ ماضی میں کی گئی ایک تحقیق سے پتہ چلا تھا کہ ایسے افراد جو تین دن تک نہاتے نہیں ہیں اُن کی جلد پر ہائی جین سمیت دیگر مصنوعات کی باقیات بہت دیر تک موجود رہتی ہیں۔ محقیقین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے کسی مالک کے فنگر پرنٹس کے بغیر بھی فون کے مالک کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مریض دوائی کھا رہا ہے یا نہیں۔ ریسرچ کی ٹیم کے رکن کا کہنا ہے کہ اوسطً ایک انسانی جلد پر کم سے کم ایک ہزار مائکروبس موجود ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…