بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

”جمہوریت“اب زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ سکے گی،نوازشریف اپنی ہی جماعت کے ساتھ کیا کررہے ہیں؟ ،مصطفی کمال اور فاروق ستار اکٹھے بیٹھنے پر کیوں مجبور ہوئے؟ جاوید چوہدری کے انکشافات‎

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

عرب کے ایک مسلمان نے ایک بار ایک یہودی سے پوچھا ’’تم لوگ اسلام کے خلاف سازشیں کیوں کرتے رہتے ہو؟‘‘ یہودی نے قہقہہ لگایا اور بولا ’’بھائی صاحب آپ جیسے مسلمانوں کے ہوتے ہوئے ہمیں اسلام کے خلاف سازش کرنے کی کیا ضرورت ہے‘‘ مسلمان شرمندہ ہو گیا‘ یہودی نے کہا ’’اسلام کو جتنا نقصان مسلمانوں نے پہنچایا اتنا تمام کافر مل کر بھی نہیں پہنچا سکتے تھے۔ اسلام کیلئے اصل خطرہ کافر نہیں ہیں مسلمان ہیں‘‘۔

ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن ہمیں یہ ضرور ماننا ہو گا پاکستان میں سیاست کو جتنا نقصان سیاستدانوں نے پہنچایا اتنا نان پولیٹیکل ایکٹرز مل کر بھی نہیں پہنچا سکے‘ جمہوریت نے جتنا نقصان جمہوری لیڈروں سے اٹھایا اتنا غیر جمہوری طاقتیں مل کر بھی نہیں پہنچا سکیں اور آئین کو جتنا نقصان آئین سازوں نے پہنچایا اتنا چار مارشل لاء مل کر بھی نہیں پہنچا سکے‘ آپ الطاف حسین کی مثال لے لیجئے‘ یہ ایم کیو ایم کے بانی ہیں‘ ایم کیو ایم کو چار جمہوری حکومتوں اور دو فوجی جرنیلوں نے کچلنے کی بھرپور کوشش کی لیکن یہ لوگ کامیاب نہ ہو سکے مگر الطاف حسین نے آخر میں خود اپنی پارٹی کو زمین میں گاڑھ دیا‘ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی بنائی‘ اس پارٹی کو دو فوجی حکمران اور دو سول حکومتیں تباہ نہیں کر سکیں لیکن یہ آج خود اپنے ہی لیڈروں‘ اپنے ہی خاندان کے ہاتھوں بستر مرگ تک پہنچ چکی ہے‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف نے بنائی تھی‘ اس جماعت پر تین بار شب خون مارے گئے لیکن یہ سروائیو کر گئی‘ آج یہ خود اپنے ہی بانی کے ہاتھوں ختم ہو رہی ہے اور ملک میں چار بار جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا لیکن جمہوریت چاروں بار دوبارہ اٹھ کر بیٹھ گئی‘ آج یہ اپنے ہی جمہوریت زادوں کے ہاتھوں انتقال کر رہی ہے اور یہ طے ہے انسان ہوں‘ ادارے ہوں یا پھر پارٹیاں ہوں، ان پر جب ان کے اپنے بانی یا محافظ حملہ آور ہوتے ہیں تو پھر یہ نہیں بچ سکتیں‘

مجھے آج یوں محسوس ہوتا ہے ہماری جمہوریت آج جس طرح جمہوری پارٹیوں کے ہاتھوں قتل ہو رہی ہے یہ اب زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ سکے گی۔ فاروق ستار اور مصطفی کمال کے نئے بیانات سن کر یقین نہیں آتا یہ بیان انہیں لوگوں نے دیئے ہیں جو کل تک ایک دوسرے برا بھلا کہتے تھے، ایم کیو ایم کی اس نئی شادی کا کیا مستقبل ہے‘ دونوں مخالفین اکٹھے بیٹھنے پر کیوں مجبور ہوئے اور اس اتحاد کے ملکی سیاست پر کیا اثرات ہوں گے‘ یہ ہمارے آج کے پروگرام کا موضوع ہے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…