پیر‬‮ ، 02 مارچ‬‮ 2026 

سرسوں ، توریا، رایا، کینولا، تل ، مونگ پھلی، السی ، تارا میرا،سورج مکھی ، سویا بین ، کپاس اور مکئی ،کون سا کھانے کا تیل صحت کیلئے بہترین ہے؟ماہرین نے بتادیا

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور (آئی این پی ) زرعی ماہرین نے کہاہے کہ پاکستان اپنی ضرورت کا صرف 14فیصد (462ہزار ٹن) خوردنی تیل پیدا کرتا ہے ،86فیصد (3264ہزار ٹن) تیل درآمد کیا جاتا ہے ۔ جس کا خرچہ 285بلین روپے ہیں ۔ پاکستان ، چین اور بھارت کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا خوردتی تیل درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے اور جن ممالک سے تیل درآمد کیا جاتا ہے

ان میں ملائیشیااور انڈونیشیا سر فہرست ہیں۔ درآمد کردہ خوردنی تیل کھانے کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور بنیادی طور پر صابن اور کاسمیٹکس بنانے کے کام آتا ہے ۔ یہ عام درجہ حرارت پر سالڈ رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر جسم میں جا کر خون کی نالیوں میں جم جاتا ہے اور بہت سی خطرناک بیماریوں کا باعث بنتا ہے ۔ جس میں دل کی بیماریاں سر فہرست ہیں۔ ماہر ین نے مزید کہا کہ تیل دار اجناس کی مختلف انواع کی فصلات کی ایک طویل فہرست ہے جن سے تیل حاصل کیاجاسکتا ہے ۔ اس میں سرسوں ، توریا، رایا، کینولا، تل ، مونگ پھلی، السی ، تارا میرا،سورج مکھی ، سویا بین ، کپاس اور مکئی وغیرہ شامل ہیں۔ کینولا اور سورج مکھی کا تیل صحت کے لیے موزوں ترین ہے ۔ اس میں اروسک ایسڈ اور گلوکوسائینولیٹ کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے

۔پاکستان میں اس وقت کینولا کی کاشت کا بالکل صحیح وقت ہے ۔ ماہرین نے اس ضرورت پر زور دیا ہے کہ ہم کاشتکاروں میں آگاہی پیدا کریں کہ کینولا کی کاشت کو بڑھایا جائے ۔ تاکہ ملکی سرمائے میں اضافہ ہو اور درآمدات میں کمی ہو۔ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ حکومت پنجاب نے انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے خادم پنجاب کسان پیکج کے تحت تیلد ار اجناس کی کاشت پر سبسڈی سکیم متعارف کرائی ہے جوکہ ملکی کفالت کی طرف پہلا قدم ہے ۔ ایک کسان دس ایکڑ تک کاشت کے لیے سبسڈی سکیم سے فائدہ اٹھا سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…