منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

افغانستان میں بارودی سرنگیں تلف کرنے والی ٹیم اغوا

datetime 20  اپریل‬‮  2015 |

خوست (نیوز ڈیسک)افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی صوبے پکتیا میں نامعلوم مسلح افراد نے بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے والے ٹیم میں شامل کئی افراد کو اغوا کر لیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں باردو سرنگوروں کو تلف کرنے والے ٹیم بغیر کسی رکاوٹ کے کئی ہفتوں سے کام کررہی تھی اور انھیں دیہاتی افراد سکیورٹی فراہم کرتے تھے۔خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے کم سے کم 12 افراد کو مغوی بنایا ہے۔افغانستان میں بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے والی ٹیم پر اس سے قبل بھی مسلح افراد نے حملے کیے ہیں اور انھیں اغوا کیا ہے۔ جس کے بعد مقامی قبائل اور اغواکاروں کے درمیان مذاکرات کے بعد مغویوں کو رہا کر دیا گیا۔ادھر افغان صوبے ہلمند میں بھی مسلح افراد نے پولیس سٹیشن پر حملہ کیا ہے۔پکتیا صوبے کے پولیس کے سربراہ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ زورمت ضلع میں بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے والے ٹیم بغیر کئی ہفتوں سے کام کر رہی تھی۔انھوں نے بتایا کہ عموما ان افراد کو پولیس یا فوج سکیورٹی فراہم نہیں کرتی بلکہ اس معاملے میں مقامی افراد ٹیم کی سکیورٹی پر مامور ہوتے ہیں۔پولیس اہلکار نے بتایا کہ اغوا کاروں نے مغویوں کو گاڑیوں سمیت اغوا کیا ہے اور اْن کی رہائی کے لیے کوشش جاری ہے۔اس سے قبل گذشتہ سال افغان صوبے ہلمند سے بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے والے 12 افراد کو اغوا کیا گیا تھا اور اس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔دوسری جانب افغانستان کے صوبے ہلمند کے جنوبی شہر لشکر گڑھ میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس سٹیشن پر حملہ کیا ہے۔ جس میں ایک شہری سمیت دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔کسی بھی گروہ نے ان افراد کو اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ہلمند پولیس کے سربراہ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ دو مسلح افراد پولیس سٹیشن میں داخل ہوئے جبکہ ایک نے باہر اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔یاد رہے کہ افغانستان کا صوبہ ہلمند طالبان کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔یہ حملے ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب گذشتہ روز جلالہ آباد میں ہونے والے خودکش حملے میں 33 افراد ہلاک اور 125 افراد زخمی ہوئے تھے۔ افغان صدر اشرف غنی نے اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پر عائد کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…