بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

آلودگی کے ذرّات کی انسانی دماغ تک رسائی

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دماغ کے ریشوں کے بعض نمونوں میں آلودگی کے باریک ذرّے ملے ہیں۔محققین کو شک ہے کہ آلودگی کا شکار دماغ میں آئرن آکسائیڈ کے یہ ذرے الزائمر جیسے بیماریوں کا باعث بنتے ہیں تاہم اس حوالے سے شواہد کی کمی ہے۔ ایک شخص کے دماغ سے زندہ کیڑا

برآمد  ’آلودہ آلاتِ جراحی کے استعمال سے ایلزہائمر کا خدشہ‘محققین نے ان نتائج کو ’خوفناک حد تک حیران کن‘ قرار دیا ہے۔ اور اس سے فضائی آلودگی کے سبب صحت کو لاحق خطرات کے بارے میں نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اس سے پہلے کیے گئے مطالعات میں فضائی آلودگی کے پھیپھڑوں اور دل پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا جاتا رہا ہے۔ نئی تحقیق سے پہلی بار ایسے شواہد ملے ہیں کہ آلودگی دماغ تک رسائی حاصل کر لیتی ہے۔ اس سال کے اوائل میں عالمی ادراۂ صحت نے خبردار کیا تھا کہ فضائی آلودگی سالانہ 30 لاکھ وقت سے پہلے ہونے والے زچگیوں کا سبب بن رہی ہے۔ صرف برطانیہ میں ہی سالانہ 50000 لوگ آلودہ فضا سے جڑے مسائل کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ لانکیسٹر یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق پروسیڈنگ آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسیز (پی این اے ایس) میں شائع کی ہیں۔ ٹیم نے 37 افراد کے دماغ کے ریشوں کا جائزہ لیا۔ ان میں سے 29 میکسیکو سٹی میں مقیم رہے اور وہیں انتقال ہوا۔ یہ جگہ آلودگی کے لیے بدنام ہے جبکہ باقی 8 افراد کا تعلق مانچسٹر سے تھا۔ اس تحقیق کی قیادت کرنے والے ماہر بابرا نے اس سے پہلے لانکسٹر کے قریب ایک مصروف سڑک پر ایک بجلی گھر کے قریب فضا میں مقاطینسی ذرات کا پتا چلایا تھا۔ ان کو شک تھا کہ ایسے ذرّات شاید دماغ میں بھی ہو سکتے ہیں اور پھر ایسا ہی ہوا۔ ان کا کہنا تھا ’یہ خوفناک

حد تک حیرت انگیز تھا کہ مطالعے دوران ہم نے دیکھا کہ آلودگی کے ذرات خلیوں کے درمیان پھیلے ہوئے ہیں اور جو آپ اس میں سے مقناطیسی ذرات الگ کرتے ہیں تو یہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ لاکھوں اور وہ بھی ایک گرام دماغی ریشوں میں۔ اور یہی دماغ کو نقصان پہنچانے کے لاکھوں مواقع بھی ہیں۔‘ مزید تحقیق سے پتا

چا کہ ان ذرات کی اپنی ایک شکل و ہیئت ہے جس کی وجہ سے ان کی وجہ کا تعین کرنا آسان ہوا۔ مقناطیسی ذرات دماغ میں قدرتی طور پر بھی بنتے ہیں ان رات کے دندانے ہوتے ہیں۔ لیکن اس تحقیق میں پائے جانے والے مقناطیسی ذرات لاتعداد اور گول تھے۔ اور ساخت کے اعتبار سے وہ ایسے ذرات ہیں جو گاڑی کے انجن جیسے گرم دراجہ حرارت میں بنتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…