اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

پرویز خٹک شہباز شریف پر بھی بازی لے گئے ایسا کام شروع کر دیا کہ سب حیران رہ گئے

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

پشا ور(آن لائن)خیبر پی کے کی حکومت نے دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں تمام مدرسوں کو تعلیمی بورڈز سے منسلک کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے تاہم دینی اداروں کے منتظمین نے مدرسوں کے اندراج کے عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔محکمہ ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی طرف سے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز کو

ہدایت کی گئی ہے کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ایک ماہ کے اندر اندر ان کے اندراج کا عمل مکمل کرنے کو یقینی بنایا جائے۔اس ضمن میں ڈیرہ اسماعیل خان کے محکمہ ثانوی و اعلیٰ تعلیمی بورڈ کی طرف سے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیاہے۔اعلامیے میں کہا گیاوزرات مذہبی امور وفاقی حکومت کی ہدایت کے مطابق خیبر پی کے کے تمام دینی مدارس کی رجسٹریشن کی ذمہ داری متعلقہ تعلیمی بورڈز کو سونپ دی گئی ہے۔سیکرٹری ایجوکیشن کے دستخط سے جاری کردہ اس اعلامیے کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے اضلاع میں واقع دینی مدارس کے منتظمین کو کہا گیا وہ اپنے اپنے مدرسوں کی تفصیلات تعلیمی بورڈ کے اکیڈمک سکیشن میں جمع کرائیں۔محکمہ تعلیم کے اعلیٰ اہلکاروں کے مطابق اس ضمن میں متعلقہ تعلیمی بورڈز کو پہلے ہی 11 صفحات پر مشتمل ایک فارم دیا گیا ہے جس میں مدرسوں سے متعلق تمام کوائف درج کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔توہین عدالت کیس،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوازشریف کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔انھوں نے کہا کہ فارم میں مدارس کے منتظمین کو اس بات کی ضمانت دینا ہوگی کہ ان کا مدرسہ نہ تو دہشت گردی، شدت پسندی، فرقہ واریت یا ملک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے اور نہ ہی ایسی تعلیم دے گا۔اس کے علاوہ تمام دینی مدارس

کو آمدن کے ذرائع بتانے کے ساتھ ساتھ ہر سال ان کا سرکاری ادارے سے آڈٹ بھی کرایا جائے گا۔تاہم دوسری طرف خیبر پی کے میں قائم دینی مدارس کے منتظمین نے حکومت کی طرف سے شروع کیے جانے والے اس عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔پشاور میں ایک دینی مدرسے کے مہتمم نے نام نہ بتانے کے شرط پر بتایا حکومت کا یہ دعویٰ غلط بیانی پر مبنی ہے کہ دینی مدارس کی

رجسٹریشن کا عمل ابھی شروع کر دیا گیا ہے۔انھوں نے کہا مدراس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا عمل تو کئی سال پہلے سے جاری ہے جس پر دینی مدارس کے متنظمین اور علما کرام کو شدید تحفظات رہے ہیں۔انھوں نے کہا اس ضمن میں تعلیمی بورڈز کے افسران اور مدارس کے ناظمین کے مابین ایک اہم اجلاس دو دن بعد متوقع ہے جس کے بعد ان کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو مفصل بیان جاری کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…