منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

سائنسدانوں کی اپیل، ’اپنا دماغ عطیہ کریں‘

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سائنسدان تحقیق کے لیے لوگوں سے مرنے کے بعد اپنے دماغوں کو عطیہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے پاس ڈپریشن اور پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس والے دماغوں کی کمی ہے۔آلودگی کے ذرّات کی انسانی دماغ تک رسائی

سائنسدانوں کی تحقیق کا مقصد ذہنی اور دماغی خرابی کے لیے نیا طریقۂ علاج دریافت کرنا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ پیچیدہ اور خوبصورت ہوتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ محقیقین نے حالیہ برسوں کے دوران دماغ کی ساخت اور دماغی خرابی کے درمیان تعلق بنایا ہے۔ بوسٹن کے مضافات میں ہارورڈ برین ٹشو ریسورس سینٹر میں تین ہزار سے زائد دماغوں کو اکھٹا کیا گیا ہے۔ یہ دنیا میں سب سے بڑے دماغ کے بینکوں میں سے ایک ہے۔ ان دماغوں کے متعدد نمونے ذہنی یا اعصابی خرابی والے لوگوں کے ہیں۔ ان نمونوں کے ذریعے سائنسدانوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ پارکنسنز، الزائمر اور نفسیاتی خرابی جیسی بیماریوں کے علاج کے لیے نیا طریقۂ علاج تلاش کریں۔ تاہم ایک مشکل بات یہ ہے کہ میکلین ہسپتال اور دنیا بھر میں موجود دماغ کے بینکوں میں سائنسدانوں کی تحقیق کے لیے دماغ کے نمونوں کی کافی تعداد نہیں ہے۔ میکلین ہسپتال کے چیف سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر ریسلر کے مطابق متعدد ذہنی اور اعصابی بیماریوں کا علاج تحقیقی کمیونٹی کی گرفت میں ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دماغ کے ٹشو کی کمی ان کی تحقیق میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…