اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

پاناما لیکس کے حوالے سے متنازعہ صحافی احمد نورانی پر حملہ،نوازشریف نے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 27  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نوازشریف نے معروف صحافی احمد نورانی پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض ایک آزاد صحافی پر نہیں آزادی صحافت پہ حملہ ہے،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ غیرجانبدار اور آزادانہ مؤقف رکھنے والے جرات مند صحافیوں پر اس طرح کے حملے حق اور سچ کی آواز کو دبا نہیں سکتے۔

ماضی میں کئی صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔کئی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن آزاد صحافت کا گلا نہیں گھونٹا جاسکا۔حال ہی میں صحافیوں پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن کا سراغ لگانا چاہیے۔نوازشریف نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ احمد نورانی پر حملے اور دیگر حالیہ واقعات کی مکمل چھان بین کی جائے اور مجرموں کو بے نقاب کیا جائے۔انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ ان واقعات کہ مذمت کے ساتھ ساتھ ان کے مکمل سدباب کے لیے مؤثر اقدامات کرنے ہونگے۔نوازشریف نے احمد نورانی کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے آزادی صحافت کے مشن مہں صحافتی برادری سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کہا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات دنیا بھر میں پاکستان کا چہرہ مسخ کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔واضح رہے کہ مذکورہ صحافی کو سپریم کورٹ کے جج اور پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افضل کو بارہا ٹیلی فون کرنے اور اس ضمن میں خبریں لگانے پر توہین عدالت میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…