بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

جب الیکشن کمیشن کی توہین ہوئی تو کہا کہ عمران خان کو گرفتار کرکے لاؤ، جب آئین پاکستان کی توہین ہوتی ہے تو الیکشن کمیشن کو چپ کیوں لگ جاتی ہے؟ جاوید چودھری کا آج کی صورت حال پر چشم کشا تجزیہ

datetime 26  اکتوبر‬‮  2017 |

عمران خان نے 20ستمبر2017ء کو کراچی میں الیکشن کمیشن کے بارے میں برا بھلا کہا تھا، الیکشن کمیشن نے ان خیالات کو اپنی توہین سمجھا چنانچہ عمران خان کو نوٹس جاری کر دیئے گئے‘ الیکشن کمیشن نے بار بار عمران خان کو طلب کیا لیکن عمران خان پیش نہیں ہوئے ‘ کمیشن نے تنگ آ کر 12 اکتوبرکو عمران خان کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا‘ آج عمران خان کی تاریخ تھی‘ خان صاحب نے آج پیش ہو کر اپنی دونوں گستاخیوں پر کمیشن سے معافی مانگ لی‘

کمیشن نے کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں معاف کر دیا‘ یہ الیکشن کمیشن کے پانچوں ارکان کا بڑا پن ہے‘ ہم اس پرانہیں جتنا بھی خراج تحسین پیش کریں وہ کم ہو گا لیکن میں ساتھ ہی ایک چھوٹی سی گستاخی کرنا چاہتا ہوں جب الیکشن کمیشن کے ارکان کی توہین ہوتی ہے تو کمیشن ملزم کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیتا ہے لیکن جب ارکان اسمبلی اور الیکشن کے امیدوار کمیشن کے اصولوں کی ننگی خلاف ورزی کرتے ہیں تو اس وقت کمیشن کی توہین کیوں نہیں ہوتی‘ الیکشن کمیشن نے الیکشن مہم میں اخراجات کی ایک حد طے کر رکھی ہے‘ یہ حد وفاقی الیکشن کیلئے 25اور صوبائی کیلئے 15 لاکھ روپے ہے‘ پاکستان کے ہر الیکشن میں اس حد کی وائلیشن ہوتی ہے‘ ہر امیدوار حلف نامہ جمع کروا کر لاکھوں کی جگہ کروڑوں روپے خرچ کرتا ہے‘ آپ این اے 122‘ این اے 120 اور لودھراں کے این اے 154کے ضمنی الیکشنوں کو لے لیجئے ان الیکشنوں میں کروڑوں روپے لگائے گئے‘ لودھراں کے الیکشن سے پہلے وزیراعظم نے حلقے کیلئے اڑھائی ارب روپے کے ترقیاتی فنڈزتک کا اعلان کر دیا تھا‘ آج این اے 4 کا الیکشن تھا‘ اس الیکشن میں بھی الیکشن ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی کی گئی لیکن الیکشن کمیشن خاموش رہا‘ اس نے آج تک اپنے ضابطوں کی توہین پر کوئی نوٹس لیا‘

کسی کی گرفتاری کا حکم دیا اور نہ ہی کسی سے معافی نامہ طلب کیا‘ کیا یہ تضاد نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن کے ارکان پر اعتراض کیا جائے تو توہین ہو جاتی ہے اور اگر الیکشن کے سارے ضابطے توڑ دیئے جائیں‘ حلقوں میں پانی کی طرح پیسہ بہا دیا جائے یا حکومتیں کھمبے‘ ٹرانسفارمرز اور پائپوں کے انبار لگا دیں‘وزیراعظم اڑھائی ارب روپے کا پیکج دے دیں تو کوئی توہین ہوتی ہے‘ کوئی تکلیف ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی نوٹس ہوتا ہے‘ کیوں؟ جناب کیوں؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…