اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

مفتی عبد القوی کا سچ اور جھوٹ جانچنے کیلئے انہیں آج کس سائنسی عمل سے گزارا جائے گا، مفتی قوی کی پریشا نیوں میں اضافہ!!

datetime 25  اکتوبر‬‮  2017 |

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک)قندیل بلوچ قتل کیس میں گرفتار ملزم مفتی عبدالقوی کا پولی گرافک ٹیسٹ آج ہوگا جبکہ مفتی عبدالقوی سچ اور جھوٹ جانچنے کے سائنسی عمل سے بھی گزریں گے۔تفصیلات کے مطابق معروف ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں ملوث ملزم مفتی عبدالقوی کو صبح سویرے ڈی ایس پی عبدالرحیم کی سربراہی میں

سخت سکیورٹی میں پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے لاہور روانہ کرد یا گیا جب کہ پنجاب سائنس فرانزک ایجنسی نے مفتی عبدالقوی کے فرانزک ٹیسٹ کا وقت چار بجے سہ پہر کا دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق مفتی عبدالقوی دوپہر بارہ بجے کے قریب لاہور پہنچ جائے گے،لاہور پہنچنے کے بعد مفتی عبد القوی کو دو سے تین گھنٹے آرام کرایا جائے گا تاکہ ٹیسٹ کے درست نتائج حاصل کیے جا سکے، اس کے علاوہ مفتی عبدالقوی آج سچ اور جھوٹ جانچنے کے سائنسی عمل سے گزریں گے، لاہور روانگی کےموقع پر مفتی عبد القوی کافی پر امید دکھائی دئیے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز قندیل بلوچ قتل کیس میں نامزد ملزم مفتی عبدالقوی کو پولیس نے اسپتال سے تھانہ چہلیک منتقل کیا، ملزم مفتی عبدالقوی گرفتاری کے بعد دل کے عارضے میں مبتلا ہوگئے تھے جس کیوجہ سےانہیں کارڈیالوجی اسپتال منتقل کردیا گیا تھا، تاہم پانچ روز میں دو مرتبہ انجیو گرافی کے بعد انکی رپورٹس کو کلئیر قرار دےدیا گیاہے جس کے بعد پولیس نے عدالت سے مفتی عبدالقوی کا دوسری مرتبہ چار روزہ ریمانڈ حاصل کرلیا اور آج اسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی انہیں حراست میں لیکر تھانہ چہلیک منتقل کردیا گیا جہاں ان سے تفتیش کی جارہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…