جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

پانی کا بحران انتہائی خطرناک صورت اختیار کرگیا،بڑے ڈیم سے بجلی کی پیداوار بند،ہنگامی اجلاس طلب

datetime 24  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی)ملک کے سب بڑے پانی کے ذخیرے منگلا ڈیم میں پانی کی شدید قلت کے باعث پانی کی رسائی کو فوری طور پر روکدیا گیا جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار بھی بند ہو گئی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ( ارسا)کا کہنا ہے کہ پنجاب کے محکمہ آبپاشی کے مطالبے کے بعد منگلا پاور ہاؤس میں بجلی کی پیداوار کو فوری طور پر روک دیا گیا

جس کا مقصد پانی کے بہا ؤکو کنٹرول کرکے نئی فصل کو بچانا ہے۔منگلاڈیم کی 50 سالہ تاریخ میں یہ دوسری مرتبہ ہے کہ پانی کے بہا ؤکو روکا گیا ہے جبکہ اس سے قبل جنوری 2010 میں پانی کی قلت کی وجہ سے اس کو بند کیا گیا تھا۔ارسا کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ پنجاب میں واٹر ریگولیٹر کے مشورے کے مطابق پانی کے بہاؤ کو 50 ہزار کیوسک سے کم کرکے 7 ہزار کیوسک تک کردیا گیا تاکہ پانی کی قلت پر قابو پایا جا سکے جبکہ پنجاب حکومت نے بھی منگلا ڈیم سے نومبر میں گندم کی کاشت ہونے تک اپنا حصہ لینے سے انکار کردیا۔صوبائی حکومت نے اپنے دائمی اور غیر دائمی کینال کو بھی بند کردیا جس کا کہنا ہے کہ ہم اگلے 10 دن تک یہاں سے اپنا حصہ نہیں لیں گے۔سندھ حکومت نے گندم کی کاشت جاری ہونے کے باوجود پانی کی شدید قلت کے باعث پنجاب حکومت کی پیروی کرتے ہوئے اپنے حصے کو 55 ہزار کیوسک سے کم کرتے ہوئے 40 ہزار کیوسک کردیا ہے۔دوسری جانب انڈس ریور سسٹم اتھارٹی نے مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ارسا حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 سالوں میں دریاؤں کا بہاؤ اور پانی کے ذخائر میں اتنی کمی نہیں دیکھی گئی اور اس بار پانی کا بحران انتہائی خطرناک صورت اختیار کرگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دریائے کابل میں پانی کے بہاؤ میں 4 ہزار کیوسک اور دریائے جہلم میں 5 سے 6 ہزار کیوسک تک کمی دیکھی گئی ہے جبکہ رواں ماہ کے 22 دنوں میں چاروں دریاؤں کے بہاؤ میں پچھلے سال کے مقابلے میں 21 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ اگلے 3 سے 4 مہینوں میں تک بارشوں کے سلسلے میں کمی کے باعث محکمہ آبپاشی کو دریاؤں کے بہاؤمیں کمی دیکھی جاسکتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں خطرہ ہے کہ اگر سردیوں کے بارشی نظام میں کچھ گڑ بڑ ہوئی تو ملک میں پانی کا بہت بڑا بحران بھی پیدا ہوسکتا ہے۔مزید کہا گیا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ملک کو آنے والے ربیع کے سیزن میں شدید پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ خریف کے موسم میں ملک میں ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت کم ہونے کی وجہ سے 9 ملین ایکڑ فیٹ پانی کو سمندر میں بہا دیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…