منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

پانی کا بحران انتہائی خطرناک صورت اختیار کرگیا،بڑے ڈیم سے بجلی کی پیداوار بند،ہنگامی اجلاس طلب

datetime 24  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی)ملک کے سب بڑے پانی کے ذخیرے منگلا ڈیم میں پانی کی شدید قلت کے باعث پانی کی رسائی کو فوری طور پر روکدیا گیا جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار بھی بند ہو گئی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ( ارسا)کا کہنا ہے کہ پنجاب کے محکمہ آبپاشی کے مطالبے کے بعد منگلا پاور ہاؤس میں بجلی کی پیداوار کو فوری طور پر روک دیا گیا

جس کا مقصد پانی کے بہا ؤکو کنٹرول کرکے نئی فصل کو بچانا ہے۔منگلاڈیم کی 50 سالہ تاریخ میں یہ دوسری مرتبہ ہے کہ پانی کے بہا ؤکو روکا گیا ہے جبکہ اس سے قبل جنوری 2010 میں پانی کی قلت کی وجہ سے اس کو بند کیا گیا تھا۔ارسا کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ پنجاب میں واٹر ریگولیٹر کے مشورے کے مطابق پانی کے بہاؤ کو 50 ہزار کیوسک سے کم کرکے 7 ہزار کیوسک تک کردیا گیا تاکہ پانی کی قلت پر قابو پایا جا سکے جبکہ پنجاب حکومت نے بھی منگلا ڈیم سے نومبر میں گندم کی کاشت ہونے تک اپنا حصہ لینے سے انکار کردیا۔صوبائی حکومت نے اپنے دائمی اور غیر دائمی کینال کو بھی بند کردیا جس کا کہنا ہے کہ ہم اگلے 10 دن تک یہاں سے اپنا حصہ نہیں لیں گے۔سندھ حکومت نے گندم کی کاشت جاری ہونے کے باوجود پانی کی شدید قلت کے باعث پنجاب حکومت کی پیروی کرتے ہوئے اپنے حصے کو 55 ہزار کیوسک سے کم کرتے ہوئے 40 ہزار کیوسک کردیا ہے۔دوسری جانب انڈس ریور سسٹم اتھارٹی نے مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ارسا حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 سالوں میں دریاؤں کا بہاؤ اور پانی کے ذخائر میں اتنی کمی نہیں دیکھی گئی اور اس بار پانی کا بحران انتہائی خطرناک صورت اختیار کرگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دریائے کابل میں پانی کے بہاؤ میں 4 ہزار کیوسک اور دریائے جہلم میں 5 سے 6 ہزار کیوسک تک کمی دیکھی گئی ہے جبکہ رواں ماہ کے 22 دنوں میں چاروں دریاؤں کے بہاؤ میں پچھلے سال کے مقابلے میں 21 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ اگلے 3 سے 4 مہینوں میں تک بارشوں کے سلسلے میں کمی کے باعث محکمہ آبپاشی کو دریاؤں کے بہاؤمیں کمی دیکھی جاسکتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں خطرہ ہے کہ اگر سردیوں کے بارشی نظام میں کچھ گڑ بڑ ہوئی تو ملک میں پانی کا بہت بڑا بحران بھی پیدا ہوسکتا ہے۔مزید کہا گیا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ملک کو آنے والے ربیع کے سیزن میں شدید پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ خریف کے موسم میں ملک میں ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت کم ہونے کی وجہ سے 9 ملین ایکڑ فیٹ پانی کو سمندر میں بہا دیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…