منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ منتقل ہونے کے خواہش مندپاکستانیوں کو خوشخبری سنادی گئی

datetime 21  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ اور کراچی سے تعلق رکھنے والے قانونی ماہرین اورسینئر عہدیداران نے کہا ہے کہ بریکزٹ Brexit کے بعد کی صورت حال میں برطانیہ منتقل ہونے کے خواہش مندپاکستانیوں کو مزید مواقع ملیں گے۔ برطانیہ پاکستانیوں کے لیے ایک پسندیدہ ملک بنتا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار عالمی امیگریشن لاء فرم، ڈیوائزرزلاء چیمبرزکے کسٹمر سروسز منیجر شیزاد رفیق نے ہفتے کو نجی ہوٹل میں ” موو ٹو یو کے۔ امیگریشن سیمینار” سے خطاب اور بعد میں میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے کیا۔

سیمینار میں برطانیہ کے خواہش مند بزنس کمیونٹی کے افراد، فیمیلیزاور طالب علموں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شیزاد رفیق نے کہا کہ امریکہ اور دیگر ممالک کے مقابلے میں برطانیہ میں امیگریشن قوانین کافی نرم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیوائزرز لاء چیمبرز امیگریشن سروسز کمشنرکے رکن کے طور پر 100 فیصد کامیابی کے ساتھ قانونی خدمات فراہم کرتی ہے۔ ڈیوائزرز لاء چیمبرزکواجازت ہے کہ وہ کلائنٹس کے خلاف ہائی کمشنر کے فیصلے کو چیلنج کر سکے کیونکہ برطانیہ کے امیگریشن قوانین میں یہ ایک بہت پیچیدہ مسئلہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ اسلام آباد، کراچی ، حیدرآباد اور فیصل آباد سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں ایسے سیمینار منعقد کر کے برطانیہ میں مستقل سکونت کے خواہش مند افراد کو آگاہی اور خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے کراچی، فیصل آباد اور دبئی میں ان کے دفاتر بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بہت جلد ٹورنٹو کینیڈا میں بھی اپنا دفترقائم کر دیں گے۔ شیزاد رفیق نے بتایا کہ وہ برطانیہ، نیوزی لینڈ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی ممالک کے لیے اپنی مکمل خدمات فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ کی امیگریشن کے لیے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور وہ لائسنس یافتہ واحد امیگریشن لاء فرم ہیں جو ویزا سروسز کے بعد بھی لوگوں کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل ہونے تک انہیں خدمات فراہم کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…