پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

کیلے کے چھلکے کے ایسےحیرت انگیز فوائد کہ آپ انہیں کچرے میں پھینکنا چھوڑ دیں

datetime 21  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کیا آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کیلا صحت کے لیے فائدے مند ہے بالکل اُسی طرح اس کا چھلکا بھی مفید ہے۔تفصیلات کے مطابق کیلا ایک ایسا ذائقہ دار پھل ہے جسے ہر دوسرا شخص پسند کرتا ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا چھلکا کس قدر غذائیت سے بھرپور ہے اور یہ امراض کے لیے کتنا فائدہ مند ہے۔غذائیت سے بھرپور اس پھل کا استعمال وافر

مقدار میں کیا جاتا ہے اور طبی ماہرین بھی کئی بیماریوں میں مریض کو کیلے کو زیادہ سے زیادہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔عام طور پر لوگ کیلا کھا کر اُس کا چھلکا کچرے میں پھینک دیتے ہیں کیوں کہ وہ نہیں جانتے ہیں یہ اُن کے لیے کتنا مفید ہے۔کیلے کا چھلکا دانتوں کی سفیدی کے لیے مفیدہوتا ہے، کیلے کے چھلکے میں پوٹاشیم کی وافر مقدار موجود ہے جو دانتوں کے پیلے پن کو دور کردیتی ہے، چھلکے کو گندے دانتوں پر رگڑا جائے تو فرق واصح طور پر سامنے آجاتا ہے۔اس سے خارش کا بھی علاج کیا جا سکتا ہے۔کیلے کے چھلکے سے خارش کی بیماری کا علاج بھی ممکن ہے، متاثرہ شخص اگر اپنی خشک جلد پر چھلکے کو رگڑتا ہے تو اس سے جلد آئلی نارمل ہوجاتی ہے، چھلکے پر شہد لگا کر خارش زدہ جلد پر اسے رگڑیں تو جسم کی خارش کم ہوجاتی ہے اور اس عمل سے بیماری ختم بھی ہوجاتی ہے۔یہ مسوں اور دانوں کے خلاف بھی موثر کام کرتا ہے۔ہاتھوں پیروں یا جسم کے کسی بھی حصے پر مسّے (دانے) اندورنی وائرس پیدا ہونے کی وجہ سے نمودار ہوتے ہیں جن کا طویل علاج کیا جاتاہے تاہم کیلے کے چھلکے میں ایک ایسا پروٹین موجود ہے جو اس وائرس کو ختم کرنے میں بہت مدد دیتا ہے جبکہ کیل مہاسے اور

چہرے کی چھائیوں سے پریشان نوجوانوں کیلئے بھی یہ بہترین چیز ہے۔ کیلے کے چھلکے کو آہستہ آہستہ منہ پر لگاکر ان جھائیوں اور جھریوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…