جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اہم سرکاری ادارے تباہی کے دھانے پر،گیارہ سو ارب روپے کے مقروض ہوگئے،کس سے قرضے لئے گئے؟چونکادینے والے انکشافات

datetime 15  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے معیشت پر بوجھ بن چکے ہیں، واپڈا، او جی ڈی سی ایل، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل اور دیگر سرکاری اداروں کے مجموعی قرضہ جات کی مالیت 1ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2016-17کے دوران سرکاری اداروں کے قرضوں میں 244.5ارب روپے کا مزید اضافہ ہوا ہے

جس کے بعد ان اداروں کے مجموعی قرضوں کی مالیت 1106.6ارب روپے تک پہنچ گئی ہے جن میں 822.8ارب روپے کے مقامی جبکہ 283.8 ارب روپے کے غیرملکی قرضے شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2016-17کے اختتام پر واپڈا پر عائد قرضوں کی مالیت 81.4ارب روپے، او جی ڈی سی ایل کے قرضوں کی مالیت 3.1 ارب روپے، پی آئی اے کے ذمے قرضوں کی مالیت 122.4ارب روپے، پاکستان اسٹیل کارپوریشن پر عائد قرضوں کی مالیت 43.2 ارب روپے اور دیگر متفرق سرکاری اداروں پر عائد قرضوں کی مالیت 572.6ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، سرکاری اداروں کیلیے 127.3ارب روپے کے قرضے حکومتی ضمانت پر حاصل کیے گئے جبکہ 156.5ارب روپے کے قرضے بغیر حکومتی ضمانت کے حاصل کیے گئے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی و غیر ملکی قرضوں کے حصول کیلیے حکومت کی جانب سے دی جانیوالی مالیاتی ضمانت کی مجموعی مالیت 937 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، اس میں سے 586.3ارب روپے کی ضمانتیں مالی سال 2017کے دوران جاری کی گئی ہیں جو گزشتہ 5سال کے دوران جاری کی جانے والی 143ارب روپے کی اوسط سالانہ ضمانتوں سے 4 گنازائد ہیں، ان ضمانتوں میں سے 90 فیصد مقامی قرضہ جات کے لیے جاری کی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…