اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

اہم سرکاری ادارے تباہی کے دھانے پر،گیارہ سو ارب روپے کے مقروض ہوگئے،کس سے قرضے لئے گئے؟چونکادینے والے انکشافات

datetime 15  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے معیشت پر بوجھ بن چکے ہیں، واپڈا، او جی ڈی سی ایل، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل اور دیگر سرکاری اداروں کے مجموعی قرضہ جات کی مالیت 1ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2016-17کے دوران سرکاری اداروں کے قرضوں میں 244.5ارب روپے کا مزید اضافہ ہوا ہے

جس کے بعد ان اداروں کے مجموعی قرضوں کی مالیت 1106.6ارب روپے تک پہنچ گئی ہے جن میں 822.8ارب روپے کے مقامی جبکہ 283.8 ارب روپے کے غیرملکی قرضے شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2016-17کے اختتام پر واپڈا پر عائد قرضوں کی مالیت 81.4ارب روپے، او جی ڈی سی ایل کے قرضوں کی مالیت 3.1 ارب روپے، پی آئی اے کے ذمے قرضوں کی مالیت 122.4ارب روپے، پاکستان اسٹیل کارپوریشن پر عائد قرضوں کی مالیت 43.2 ارب روپے اور دیگر متفرق سرکاری اداروں پر عائد قرضوں کی مالیت 572.6ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، سرکاری اداروں کیلیے 127.3ارب روپے کے قرضے حکومتی ضمانت پر حاصل کیے گئے جبکہ 156.5ارب روپے کے قرضے بغیر حکومتی ضمانت کے حاصل کیے گئے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی و غیر ملکی قرضوں کے حصول کیلیے حکومت کی جانب سے دی جانیوالی مالیاتی ضمانت کی مجموعی مالیت 937 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، اس میں سے 586.3ارب روپے کی ضمانتیں مالی سال 2017کے دوران جاری کی گئی ہیں جو گزشتہ 5سال کے دوران جاری کی جانے والی 143ارب روپے کی اوسط سالانہ ضمانتوں سے 4 گنازائد ہیں، ان ضمانتوں میں سے 90 فیصد مقامی قرضہ جات کے لیے جاری کی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…