منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

احتساب عدالت میں ہنگامہ آرائی دراصل نیب پراسیکیوشن ٹیم کو نشانہ بنانے کیلئے کروائی گئی، کس کے اشارے پر سب کچھ ہوا؟ عدالت سے بڑا حکم جاری کر دیا گیا

datetime 13  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ججز نے مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کی احتساب عدالت پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں وکلا کی نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کروانے کا حکم دیدیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کی احتساب عدالت پیشی کے موقع پرجب دونوں کمرہ عدالت میں پہنچے تو اس موقع پر وکلا کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی اور

نعرے بازی شروع کر دی گئی جس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کیلئے سماعت شروع کرنا اور اسے جاری رکھنا ناممکن ہو گیا جس پر انہوں نے سماعت کی کارروائی شروع کئے بغیر سماعت 19اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ اس کے بعد ،جج محمد بشیر اور تمام جج اپنے چیمبر میں واپس چلے گئے اور جج صاحبان کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ احتساب عدالت میں وکلا کی ہنگامہ آرائی معاملے پر تحقیقات کروائی جائے۔جج صاحبان نے تمام کیس کے مطلق ریکارڈ بھی اپنے چیمبر میں منگوا لیا ۔دوسری جانب احتساب عدالت میں ہنگامہ آرائی کے حوالے سے نیب کی پراسیکیوشن ٹیم نے بھی ایک رپورٹ نیب ہیڈکوارٹر بھجوائی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہنگامہ آرائی کا مقصد نیب پراسیکیوشن ٹیم کو نشانہ بنانا تھا۔ وکلا اور لیگی کارکنوں کی جانب سے نیب پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ مظفر عباسی کو دھکے دیے گئے جبکہ نیب ٹیم کو عدالت میں ڈائس سے ہٹانے کی بھی کوشش کی گئی۔ واضح رہے کہ احتساب عدالت میں آج شریف خاندان کے خلاف تین نیب ریفرنس کی سماعت میں فرد جرم عائد کی جانا تھی مگر ریفرنسز کی سماعت سے پہلےجب وکلا عدالت پہنچے تو انہیں پہلے ناکے پر روک لیا گیا اور کہا گیا کہ کمرہ عدالت

میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے انہیں اندر نہیں جانے دیا جائے گا۔ جس پر وکلا نے پولیس اہلکاروں کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا اجازت نامہ دکھایا جس پر ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی اور پولیس کے تشدد سے ایک وکیل زخمی ہوگیا جبکہ ایک خاتون وکیل کے ساتھ بھی دھکم پیل کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…