پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بڑا بریک تھرو، روس کے بعد امریکہ نے بھی سعودی عرب کو دنیا کا سب سے خطرناک ہتھیار فروخت کرنے کا اعلان کر دیا

datetime 7  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)امریکی حکومت نے سعودی عرب کو 15 ارب ڈالر کا جدید تھاڈ میزائل دفاعی نظام فروخت کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہاہے کہ معاہدے سے امریکہ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کو مزید تقویت ملی ہے اور اس سے سعودی عرب اور خلیج کی سکیورٹی کو ایران اور دیگر علاقائی خطرات کے خلاف بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ۔ ہفتہ کو

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ 15 ارب ڈالر کے معاہدے نے امریکہ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کو مزید تقویت دی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس سے سعودی عرب اور خلیج کی سکیورٹی کو ایران اور دیگر علاقائی خطرات کے خلاف بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ٹرمپ انتظامیہ کو اربوں ڈالر مالیت کے اس سودے کی مدد سے ملک میں موجودہ نوکریوں کو بچانے اور روزگار کے نئے مواقعے پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔امریکہ کا یہ اعلان سعودی عرب کے روس سے ایئر ڈیفینس سسٹم خریدنے کے اعلان سے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔پینٹاگون کی دفاعی سکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ کیے جانے والے اس معاہدے سے خطے کا فوجی توازن تبدیل نہیں ہو گا۔خیال رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا کے خلاف ممکنہ میزائل حملے کے خلاف جنوبی کوریا میں جدید تھاڈ میزائل دفاعی نظام نصب کیا جا رہا ہے۔جنوبی کوریا میں اس کی مخالفت کرنے والے سمجھتے ہیں کہ اس سے فوجی تنصیبات کے قریب رہنے والے نشانہ بن سکتے ہیں اور ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ادھر چین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تھاڈ نظام کی تنصیب خطے میں سکیورٹی کو غیر

مستحکم کرے گی۔اس نظام کے ذریعے درمیانے فاصلے تک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلیسٹک میزائل کو اس وقت مار گرایا جا سکتا ہے جب وہ اپنی پرواز کے آخری مرحلے میں ہوتا ہے۔اس نظام میں یہ صلاحیت بھی ہے کہ یہ کسی بھی ٹیکنالوجی مثلا جنگی ہتھیاروں کو تباہ کر سکتا ہے۔یہ نظام 200 کلومیٹر تک کے فاصلے میں کام کرتا ہے اور 150 کلومیٹر بلندی تک پراثر ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…