ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

40فیصد سے زائددہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں افغانستان کے غیر منظم علاقوں میں ہیں،خواجہ آصف

datetime 6  اکتوبر‬‮  2017 |

واشنگٹن(آئی این پی ) وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پوری یکسوئی سے دہشت گردوں کو ہدف بنا رہے ہیں، امریکا دہشت گردوں کے مقامات کی نشاندہی کرے ،ہم بمباری کریں گے،پاکستان کونہ صرف امریکابلکہ طالبان سے بھی اعتمادکی کمی کاسامناہے، صرف پاکستان کو مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے، افغانستان میں 40 فیصد سے زائددہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں

افغانستان کے غیر منظم علاقوں میں ہیں۔امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یہ نہیں کہہ رہے کہ ولی ہیں، شاید ماضی میں ہم سے بھی غلطیاں ہوئی ہوں لیکن صرف پاکستان کو مورد الزام نہ ٹہرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملا اختر منصور پر حملہ امن بات چیت کو سبوتاژ کرنے کے لیے تھا، ڈرون حملے میں لیڈر کی موت کے بعد سے طالبان پر پاکستان کا اثر کم ہوا اور طالبان پر اتنا اثر نہیں رہا جتنا ہوا کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ صدیوں سے پورے دل اور یکسوئی سے دہشت گردوں کو ہدف بنا رہے ہیں، صرف پاکستان کو مورد الزام نہ ٹہرایا جائے، امریکا دہشت گردوں کے مقامات کی نشاندہی کرے ہم بمباری کریں گے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں، پاکستان اور امریکا خطے میں امن، استحکام، خوشحالی کے مشترکہ مقصد کے لئے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے بارے میں بہت فکرمند ہے، دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں زیاہ تر افغانستان کے غیر منظم علاقوں میں ہیں جو ملک کا 40 فیصد سے زائد ہے۔وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں دہشت گردی کے کئی حملوں کے تانے بانے افغانستان میں ملتے ہیں جب کہ

ہماری مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں بہت اچھا کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان جیسا عزم اور کامیابیاں کسی دوسرے ملک کی نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…