منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخواہ کے 15لاکھ بچے سکول سے باہر‘ زیادہ تعدادلڑکیوں کی ہے

datetime 5  اکتوبر‬‮  2017 |

مانسہرہ (آئی این پی) اصلاحات وتبدیلی کے بلند و بانگ دعوے کرنے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی حکومت خیبرپختونخوا میں تعلیم کے شعبے میں اصلاحات میں وہ کامیابیاں حاصل کرنے پائی جس کے عہد وپیماں اور وعدے و دعوے کیے جار ہے ہیں۔ صوبے کے طول و عرض میں کم وبیش 15لاکھ بچوں ابتدائی تعلیم سے محروم ہیں جس میں زیادہ تعداد جو تقریباً 10لاکھ کے لگ بھگ ہے لڑکیوں کی ہے۔ اس

بات کا انکشاف غیر سرکاری تنظیم الف اعلان کی جانب سے کیے جانے والے سروے میں حاصل ہونے والی معلومات کے بعد کیا ہے۔ مذکورہ تنظیم کا کہنا ہے کہ 2005ء کے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں زمین بوس ہونے والے سکولوں میں سے بیشتر تاحال عمارت سے محروم ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کی عمارت کا ڈھانچا تو تیار کر دیا گیا لیکن عمارت نامکمل اور پانی‘ واش روم اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ بعض سکول تو ایسے ہیں کہ جن کی سرے سے عمارت ہی موجود نہیں ہے اور بچے کھلے آسمان تلے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبورہیں ۔ بارش یا تیز دھوپ میں بچے سکول نہیں جا پاتے جس سے ان کی تعلیم کا بری طرح حرج ہوتا ہے۔ دوسری جانب سرکاری سکولوں میں تعلیم کا معیار بھی وہ نہیں جس کے وعدے اور دعوے کیے جاتے ہیں۔ غریب والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں بڑی بڑی فیسیں ادا کر کے تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں اور مجبوراً اپنے بچوں کوسرکاری سکول بھیجتے ہیں جہاں وقت گزاری کے علاوہ انہیں کم ہی کچھ حاصل ہو پاتے ۔ سروے کے دوران ٹیچرز‘ معززین علاقہ اور میٹرک لیول کے بچوں سے بھی گفتگو ہوئی ۔ ان افراد کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے زیر سرپرستی چلنے والی خیبرپختونخوا حکومت کی اصلاحات صرف کاغذات تک ہی محدود ہیں جبکہ زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف ہیں۔ اُنہوں نے صوبائی وزیر برائے تعلیم

اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد ازجلد سکولوں کی عمارات کو مکمل کرنے کے علاوہ اُن میں قابل اساتذہ کی تعیناتی‘ معیاری تعلیم ‘ بنیادی سہولیات کی فراہمی اور دیگر مسائل کے حل کے لیے فوراًاقدامات اٹھائے جائیں تاکہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے اور صوبے میں تعلیم کے فروغ سے تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…