پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، حکومت اور فوج میں ٹھن گئی، تشویشناک انکشافات

datetime 4  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب رینجرز نے غیر قانونی طور پر اور سویلین حکام سے اجازت لیے بغیر اقدام کیا، تفصیلات کے مطابق انکوائری میں یہ بات سامنے آنے کے بعد کہ پنجاب رینجرز نے اسلام آباد میں احتساب عدالت کی حدود کا محاصرہ ضلعی انتظامیہ یا سویلین حکام کی درخواست کے بغیر ہی سنبھال لیا تھا، ایک موقر قومی اخبار کا وزارت داخلہ کے ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے آرمی چیف سے رابطہ کرلیا ہے۔

اس واقعے کے حوالے سے ایک دستاویز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھیجی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ڈی جی پنجاب رینجرز سے بھی وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ رات اس واقعے کے حوالے سے وزارت داخلہ کو رپورٹ پیش کی گئی۔ جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ رینجرز نے غیر قانونی طور پر اور سویلین حکام سے اجازت لیے بغیر یہ قدم اٹھایا لیکن اس تمام صورتحال میں یہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ احتساب عدالت کی حدود کا انتظام کس کے کہنے پر رینجرز نے سنبھالا۔ ذرائع کا کہناہے کہ حکومت کو آرمی چیف سے امید ہے کہ وہ اس واقعہ کا نوٹس لیں گے اور آرمی چیف ان کے خلاف کارروائی کریں جن کے غیر قانونی اقدام سے سویلین حکومت اور دفاعی ادارے کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ حکومت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اس واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی توقع رکھتے ہوئے یہ خواہش بھی رکھتی ہے کہ اس معاملے کو اس انداز سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے کہ آرمی اور حکومت کے درمیان کوئی تنازع نہ پیدا ہو۔ قومی اخبار کے مطابق رینجرز نے غیر قانونی طور پر احتساب عدالت کے علاقے کا محاصرہ کر لیا تھا اور ایسے افراد اور صحافیوں کو بھی اندر نہیں جانے دیا گیا جن کے پاس اجازت نامہ بھی موجود تھا۔

یہاں مبصرین اور نقادوں نے کہا کہ رینجرز والوں نے اس کارروائی کو بند کمرے کی کارروائی بنا دیا تھا حالانکہ مارشل لاء میں بھی عدالتی کارروائی کھلی ہوتی تھی۔ اس ساری صورتحال پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ اگر یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ ریاست اور سویلین انتظامیہ کی رٹ کیا ہے تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔ جب وزارت داخلہ نے اس بارے میں کوئی احکامات ہی نہیں دیے تو رینجرز کس کے احکامات پر عمل کر رہی تھی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ یہاں ایک ہی قانون اور ایک ہی حکومت ہوگی اور ایک ریاست کے اندر دو ریاستیں کام نہیں چل سکتیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…