اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

فاروق ستار ، مصطفی کمال اور آفاق احمد ایک ساتھ،سلیم شہزاد کی دھماکہ خیز انٹری،اہم اعلان کردیا

datetime 2  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی) متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رہنما سلیم شہزاد نے کہا ہے کہ الزامات کی سیاست کو ختم کرکے فاروق ستار ، مصطفی کمال اور آفاق احمد کو آپس میں بیٹھ جانا چاہئے اور کراچی کو اپنا شہر سمجھنا چاہئے ۔ ماضی میں جو کچھ کراچی میں ہوا میں بھی اس کا حصہ رہا ۔ مہاجروں کی تقسیم سے شہر کو نقصان پہنچا ہے ۔ 22 اگست کے بعد میں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا

لیکن پھر بھی میری حب الوطنی پر شک کیا جا رہا تھا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ سلیم شہزاد نے کہاکہ میں واحد سیاسی ورکر ہوں ، جو بغیر کسی ضمانت کے پاکستان آیا اور جیل گیا اور اسی رات مجھ پر 26 سال پرانے چار کیسز ڈال دیئے گئے ۔ انہوں نے کہاکہ 22 اگست 2016 کو جو نعرہ لگایا گیا تھا ، مجھ سمیت سب نے اس کی سختی سے مخالفت کی اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا ۔ میں اس ملک کا بیٹا ہوں اور میں کسی بھی صورت اس کے خلاف نہیں جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی میری حب الوطنی پر شک کیا جا رہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ میری برطانوی شہری ہوں جبکہ برطانیہ میں بھی ہمیں مکمل شہری تسلیم نہیں جاتا بلکہ پاکستانی نژاد کہا جاتا ہے ۔ ہمیں نہ یہاں نہ لندن میں کہیں بھی تسلیم کیا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی میں جو کچھ ہوا میں بھی کہیں نہ کہیں اس کا حصہ رہا ۔ سانحہ 12 مئی ، سانحہ بلدیہ فیکٹری اور 27 دسمبر 2007 ء کو کراچی میں جو کچھ ہوا ، اس کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں ۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو بہت بڑی لیڈر تھیں ۔ لیکن ان کی شہادت نے کراچی والوں کا کیا قصور تھا کہ انہیں نقصان اٹھانا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ 22 اور 23 اگست کو جو کچھ ہوا ،

اس کے بعد مہاجروں کو تقسیم کرنے والی کوششیں کامیاب ہو گئیں ۔ سلیم شہزاد نے کہا کہ میں چاہتا تو میں بھی اپنی کوئی پارٹی بنا لیتا ۔ لیکن میں مہاجروں کو مزید تقسیم ہونے سے بچانا چاہتا ہوں اور کراچی کو مسائل سے نکالنا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے ۔ ایک نیا اور ایک پرانا کراچی ۔ پرانا کراچی گندگی کا ڈھیر اور ٹوٹی ہوئی سڑکوں کا منظر پیش کر رہا ہے ۔

میں سب سے پوچھتا ہوں کہ پرانے کراچی میں انسان نہیں رہتے ۔ انہوں نے کہا کہ میں اعلان کرتا ہوں کہ انتقامی سیاست کو ختم ہونا چاہئے اور تمام اختلافات کو بھلا کر شہر کی بھلائی کا سوچنا چاہئے ۔ اس کے لیے ڈاکٹر فاروق ستار ، مصطفی کمال اور آفاق احمد کو بھی ایک ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جو اختیارات کا رونا رو رہے ہیں ، میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم بغیر اختیارات کے بھی شہر کو صاف کرکے دکھا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ایجنٹ کے الزامات کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہئے اور میں مطالبہ کرتا ہوں کہ پاکستان میں چلنے والے تمام اشتہارات جس میں بھارتی اداکار موجود ہیں ،

انہیں بند کیا جائے ۔ سلیم شہزاد نے کہا کہ وکٹیں گرانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ یہ نہ ہو کہ ایک دن آپ کی وکٹ بھی گر جائے بلکہ ہم سب کو شہر کی صفائی اور تعلیم کے معیار کی طرف توجہ دینا ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں اسٹریٹ کرائم بڑھتا جا رہا ہے جبکہ اس کا سارا ملبہ بھی مہاجروں پر ڈالا جا رہا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مہاجروں کی تقسیم کے پیچھے اور کوئی نہیں ہم خود نہیں ہیں ۔ ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا کہ شہری سندھ کی تکالیف اور سیاسی صورت حال سے ہر شخس آگاہ ہے ،

جہاں تقسیم در تقسیم نے پریشان ہے ۔ مہاجر سیاست کے اس پہلوؤں پر مہاجر لیڈران جماعتوں اور شخص کے درمیان بحث جاری ہے اب طے کیا گیا ہے کہ مہاجر مستقبل میں اپنے مطالبات کے لیے متفق و منظم ہو کر اتحاد قائم کریں ۔ مہاجروں کے مستقبل کی سیاسی قیادت وہی ہو گی ، جو مہاجروں کو یکجا اور متحد کرے گی ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محب وطن مہاجروں کو متعصبانہ قوانین ، حکومتی اقدامات سے نجات دی جائے ۔ مہاجروں کا وفاق اور صوبائی اقتدار میں حق حکمرانی تسلیم کیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…