منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب میں انڈونیشی خاتون کا سر قلم: جکارتہ کا سخت احتجاج،سعودی سفیر کی دفتر خا رجہ طلبی

datetime 16  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سعودی عرب میں انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی ایک گھریلو خادمہ کے سر قلم کر دینے کے واقعے کے سلسلے میں جکارتہ حکام نے انڈونیشیا متعین سعودی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔سعودی حکام کے مطابق سیتی زینب کو مسلمانوں کے مقدس شہر مدینے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ زینب کو سزائے موت ا±س پر لگے ا±ن الزامات کے ثابت ہونے کے بعد دی گئی، جس کے مطابق ا±س نے 1999ءمیں ایک سعودی خاتون نور الموروبائی کو زدو کوب کرکے اور ا±سے چھ±را مار کر ہلاک کر دیا تھا۔جکارتہ حکام کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے نہ تو زینب کے گھر والوں نہ ہی سعودی عرب میں قائم انڈونیشی قونصل خانے کو ا±س کی موت کی سزا پر عملدرآمد کی پیشگی اطلاع دی تھی۔انسانی حقوق کے لیے سرگرم گروپوں نے زینب کیس کو استعمال کرتے ہوئے جکارتہ حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ موت کی سزا کی حمایت چھوڑ دے۔ انڈونیشیا میں موت کی سزا دیے جانے کی روایت برقرار ہے اور جکارتہ حکام اس کے تحت آئندہ بھی متعدد ایسے غیر ملکیوں کو پھانسی کی سزا دینے کے منصوبے پر قائم ہے، جو منشیات سے متعلق جرائم کے مرتکب رہے ہیں۔انڈو نیشی صدر جوکو وِدو دو اور ا±ن کے تین پیش رو صدور سعودی فرمانروا سے تحریری طور پر یہ تقاضہ کر چ±کے تھے کہ مقتولہ سعودی خاتون کے گھر والوں سے زینب کے لیے معافی کی درخواست کی جائے۔ زینب کے گھر والوں اور انڈونیشی قونصل خانے کی طرف سے اس شکایت کے باوجود کہ انہیں زینب کو سزائے موت دینے سے پہلے کوئی نوٹس نہیں دیا گیا تھا، زینب کی سزائے موت پر عملدرآمد ہو گیا۔انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا، ”زینب کے کیس میں شروع سے ہی حکومت نے ا±س کی مدد کرنے کی کوشش کی اور مقتولہ کی فیملی سے معافی کی درخواست بھی کی گئی تھی۔“ اس بیان میں مزید یہ بھی کہا گیا کہ انڈونیشی حکومت نے سعودی حکومت کے خلاف احتجاج دائر کروایا تھا کہ زینب کو پھانسی دیے جانے کی تاریخ کے بارے میں ا±س کے گھر والوں یا انڈونیشی حکومت کے نمائندوں کو کوئی نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ا±دھر سعودی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ زینب کی سزا پر عملدرآمد کے لیے مقتولہ کے بچوں کے بڑے ہونے کا انتظار کیا گیا تھا تاکہ وہ عمر کے ا±س حصے میں آ جائیں، جہاں وہ یہ فیصلہ کرنے کے قابل ہوں کہ آیا زینب کو پھانسی دی جائے یا ا±سے معاف کر دیا جائے۔دریں اثنائ جکارتہ متعین سعودی سفیر مصطفیٰ ابراہیم المبارک نے کہا ہے کہ انہیں اس امر پر شدید حیرت ہوئی ہے کہ جکارتہ کی وزارت خارجہ نے اس معاملے میں ا±ن کو طلب کر لیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ وزارت کے حکم کی تعمیل کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…