اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

اب ججوں اور جرنیلوں کا احتساب سیاستدانوں کے ہاتھ میں،حیرت انگیز قدم اُٹھالیاگیا

datetime 2  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد/لاہور (این این آئی)ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کے لیے دائر درخواست پر سپریم کورٹ کی جانب سے اعتراض لگائے جانے کے بعد درخواست گزار نے اعتراضات کا جواب عدالت عظمیٰ کی لاہور رجسٹری میں جمع کرادیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ بیرسٹر ظفراللہ خان کی جانب سے اگست 2017 میں دائر کی گئی درخواست کوبدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے اعتراض لگایا تھا کہ ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کیلئے

درخواست گزار نے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیاجس کے بعد بیرسٹر ظفر اللہ خان نے عدالت کے اعتراضات کا جواب سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جمع کروا دیا۔بیرسٹر ظفر اللہ نے اپنے جواب میں کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ججوں کے احتساب کیلئے قائم کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے کسی جج کو آج تک فارغ نہیں کیا بلکہ ان کو ریٹائرمنٹ پر تمام مراعات حاصل ہوتی ہیں۔درخواست گزار نے کہاکہ ججوں اور جرنیلوں کی حلف برداری میں صادق اور امین کا لفظ موجود نہیں جو کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت پارلیمنٹ مقتدر ادارہ ہے جبکہ ججوں اور جرنیلوں کا احتساب پارلیمنٹ کے ذریعے کرنا آئین کا تقاضہ ہے۔بیرسٹر ظفر اللہ نے اپنے جواب میں کہا کہ قانون کے تحت جج اور جنرل اپنی آمدن اور اخراجات کے اعداو شمار پارلیمنٹ کی احتساب کمیٹی کے روبرو پیش کرنے کے پابند ہیں۔وطن پارٹی کے سربراہ نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ ججوں اور جرنیلوں کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت اپنی آمدن اور اخراجات کی تفصیلات پارلیمانی احتساب کمیٹی کے روبرو پیش کرنے کی ہدایت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی از سر نو تشریح کرتے ہوئے صادق اور امین کا لفظ ججوں اور جرنیلوں کے حلف میں شامل کرنے کے احکامات صادر کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شہری تمام لوگوں کے ساتھ ایک جیسا رویہ اور سلوک دیکھنا چاہتے ہیں، لہذا ان کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…