جمعہ‬‮ ، 24 جولائی‬‮ 2026 

6 دن پہلے مریم نے کہا تھا کہ ہم نیب کسی صورت نہیں جائیں گے، 6 دن بعد نواز شریف نیب کیوں پہنچ گئے؟

datetime 28  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی رئوف کلاسرا نے کہا ہے کہ جب سے میاں نواز شریف پاکستان واپس آئے ہیں ایک نفرت انگیز مہم دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔ جج سمیت سمیت کو یہ جھوٹا ثابت کر رہے ہیں، حالانکہ یہ لوگ خود جھوٹے ہیں اور اب ان کی ساکھ بھی ختم ہو چکی ہے، مریم نواز نے 19 ستمبر کو ایک ٹویٹ کیا تھا اس ٹویٹ میں وہ موصوفہ ایک سوال کے جواب

میںانتہائی سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ نواز شریف اور شریف خاندان نیب کے سامنے کسی صورت پیش نہیں ہوگا، ہرگز پیش نہیں ہوگا، ایسا ہونا بھی نہیں چاہئے کیونکہ یہ ایک ڈرامہ ہے، رئوف کلاسرا نے کہا کہ اس کے بعد نواز شریف سر کے بل چل کر نیب میں پیش ہو گئے اور (ن) لیگ کے کسی رہنما کو یہ یاد نہیں تھا کہ مریم نواز کے اتنے سخت بیان کی کسی نے مذمت بھی کرنی ہے؟ خواجہ آصف بھی ٹویٹر پر جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہے ہیں اور یہ سب مل کر مریم کی کیا تربیت کر رہے ہیں؟ کہ ابھی سے جھوٹ بولو، لوگوں کو بیوقوف بنائو۔ رئوف کلاسرا نے کہا کہ مریم نواز 19 ستمبر کو جھوٹ بول رہی ہیں اور اتنا بڑا ایک بیان دے رہی ہیں ، خود کو بینظیر بھٹو ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تو یہ والی نائب بینظیر بھٹو صاحبہ ذرا دیکھ لیں کہ 6 دن پہلے انہوں نے پوری قوم کے سامنے بڑھک ماری کہ ہم نہیں جا رہے نیب، 6 دن بعد وہ نیب پہنچ گئے اور نیب سے نکلنے کے بعد انہوں نے مذمتی بیان شروع کر دیئے کہ ہم تو نیب میں پیش ہونا چاہ رہے تھے ، میڈیا جھوٹا پروپیگنڈہ کرتا ہے۔ مریم کی اس ٹویٹ میں سارے باجا، طبلچے اور ڈھول لے کر شامل ہو گئے۔ پورے سوشل میڈیا پر لوگوں کو، صحافیوں کو گالیاں دی گئیں، صحافیوں پر الزام لگایا گیا کہ وہ قوم کو ’’مس لیڈ‘‘ کر رہے ہیں، رئوف کلاسرا نےمزید کہا کہ قوم ذرا ریکارڈ کو خود ہی درست کر لےکہ

مریم نواز نے خود کہا تھا کہ ہم نیب کسی صورت پیش نہیں ہوں گے، مریم نواز کو اس کی وضاحت دینی چاہئے کہ 6 دنوں کے اندر اندر ایسا کیا ہوگا کہ آپ کو نیب میں پیش ہونا پڑا؟ رئوف کلاسرا نے کہا کہ مریم نواز ٹویٹر سے اپنی بڑھکوں کو ڈیلیٹ کریں اور قوم سے معافی مانگیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…