پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

فرعون کا اصل نام ’’ولید‘‘ تھا اور یہ۔۔۔!!! عالمی مبلغ کے سنسنی خیز انکشاف

datetime 28  ستمبر‬‮  2017 |

قاہرہ(این این آئی)مصر کی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازھر سے وابستہ علماء بعض اوقات اپنے عجیب وغریب فتاویٰ اور بیانات کی وجہ سے کوئی ایسی بحث چھیڑ دیتے ہیں جس کی گونج سات سمندر پار بھی سنائی دیتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایسا ہی ایک متنازع بیان حال ہی میں جامعہ الازھر میں تقابل فقہ کے استاد ڈاکٹر سعد الدین الھلالی نے دیا جس سے ملک کے مذہبی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ڈاکٹر الھلالی نے دعویٰ کیا کہ تاریخی کتب میں جس شخص کو فرعون کہا جاتا ہے وہ مصری نہیں بلکہ خراسانی تھا اور اس کا اصل نام ولید بن ریان تھا۔ایک انٹرویو میں علامہ الھلالی نے کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں مصری فرعون کا اپنا وطن افغانستان اور ایران کے علاقوں پر مشتمل صوبہ خراسان تھا اور اس کا اصل نام ولید بن ریان بتایا جاتا ہے۔انہوں نے فرعون کے مصری نہ ہونے اور اس کا نام ولید ہونے کے بارے میں تین کتب کے حوالے پیش کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے فرعون کے بارے میں یہ باتیں فیروز آبادی کی کتاب ’بصائر ذوی التمییز فی لطائف کتاب العزیز‘ ابن منظور کی ’لسان العرب‘ اور الفیومی کی ’الصباح المنیر‘ میں پڑھی ہیں۔ ان تینوں کتابوں میں فرعون کا نام مصعب بن الولید یا ولید بن ریان لکھا گیا ہے۔ڈاکٹر الھلالی کا بیان مصر کے مذہبی حلقوں میں ایک نئی بحث کا موضوع ہے۔ فرعون کے بارے میں ان کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ماہ قبل سوڈان کے ایک سابق وزیر احمد بلال نے دعویٰ کیا تھا کہ فرعون مصری نہیں بلکہ سوڈانی تھا۔مصری علماء آثار نے مبغلین پر زور دیا کہ وہ مذہبی مسائل پر لوگوں کی رہ نمائی پر توجہ دیں اور ایسے متنازع موضوعات نہ چھیڑیں جس سے لوگوں میں اسلامی تاریخ کے بارے میں نئی الجھنیں پیدا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…