منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

باچو مل کی کرپشن کی ہوشربا داستان، گریڈ 16 کے ایک چھوٹے سے افسر نے اتنی کرپشن کی کہ نیب کو کارروائی کرنا پڑ گئی

datetime 27  ستمبر‬‮  2017 |

حیدرآباد (آئی این پی)قومی احتساب بیورو نے کروڑوں روپے کے غیر قانونی اثاثے بنائے کے ریفرنس میں ملوث محکمہ تعلیم گریڈ 16کے آفس سپریڈنٹ کو گرفتار کرلیا نیب حکام کے مطابق ملزم باچو مل مارکیٹ تھانے کی حدود میں واقع اس کی رہائش گاہ کے قریب سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنی ضمانت کرانے حیدرآباد سرکٹ ہائی کورٹ جارہا تھا ۔ملزم کے خلاف نیب نے تحقیقات کی جس کے دوران یہ بات سامنے آئی ہیں کہ

ملزم نے حیثیت سے بڑھ کر اثاثے بنائے ہیں جبکہ ملزم نے غیر قانونی بھرتیوں سمیت دیگر طریقے سے محکمہ تعلیم میں کرپشن کی ہے ملزم میر پور خاص میں تعینات تھا اور ان دنوں معطل ہونے کے سبب گھر پر حیدرآباد میں موجود تھا ۔ملزم کی غیر قانونی جائیداد ،گاڑیوں او ر بینک میں موجود ر قومات کا علم ہوا ہے ۔ملزم کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس کی دائر ہے جہاں سے اس کا ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔دریں اثناء نیب نے مورو کی کالعدم ٹی ایم اے اور موجودہ میونسپل کمیٹیز میں شکنجے مضبوط کر دئیے۔ 30افسران کو سنگین بد عنوانیوں پر طلب کر لیا گیا۔ افسران پر سنگین مالی بے ضابطگیوں کے الزام ہیں۔ کراچی کی ضلعی بلدیات میں بھی نیب کی کاروائیوں کا اندیشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ 7 سالوں میں جعلی کوٹیشنز کے ذریعے اربوں روپے ٹھکانے لگائے گئے۔ کئی ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز کرواکے بھی رقم بٹوری گئیں ہیں۔ ٹینڈرز رسمی کاروائی ثابت ہوئے عملی کام کچھ نہیں ہوا۔ ضلع شرقی، کورنگی اور ملیر جعلی کوٹیشنز کے ماسٹر مانے جاتے تھے۔ تکنیکی مہارتوں کو استعمال کر کے کروڑوں کے کام ٹینڈر کے بجائے کوٹیشنز کے ذریعے کئے گئے۔ شہری اداروں میں نیب کا دائرہ کار دن بہ دن وسیع ہو رہا ہے۔ ضلعی بلدیات کی بھی کئی شکایات بمعہ دستاویزات موجود ہیں۔ ضلعی بلدیات میں کسی بھی دن مرحلہ وار کاروائیاں کی جا سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…