جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

سیاسی حالات تبدیل،تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بڑے کام کا آغاز کردیا

datetime 26  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی)تحریک انصاف کے مضبوط متوقع امیدواروں نے چیئرمین عمران خان کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے اور موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں اپنے حلقوں میں غیر اعلانیہ طور پر انتخابی مہم شروع کر دی ، حلقے کے رہنماؤں اور سپورٹرز کو بھی متحرک کرنا شروع کر دیا ۔ پی ٹی آئی میں پائی جانے والی سوچ کے مطابق نواز شریف کی نا اہلی کے بعد حالات جس طرف جارہے ہیں

اس میں قبل از وقت انتخابات کا انعقاد خارج از امکان نہیں اس لئے مضبوط متوقع امیدواروں نے پارٹی کی طرف سے باضابطہ ہدایت یا ٹکٹوں کا فیصلہ ہونے سے قبل ہی غیر اعلانیہ طور پر انتخابی مہم بھی شروع کر دی ہے ۔ اس تناظر میں امیدواروں نے حلقے کے رہنماؤں اور متحرک سپورٹرز سے رابطے شروع کر دئیے ہیں اور انہیں سر گرمیاں شروع کرنے کی ہدایت بھی کی جارہی ہے۔ دریں اثنا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نوازشریف کااب پاکستان کی سیاست میں کوئی کردار نہیں اور شریف خاندان کی سیاست سے ہمیشہ کے لیے چھٹی ہوگئی،صدرٹرمپ کی افغان پالیسی میں نقص ہے اور ٹرمپ کی پالیسی مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کو کو دیئے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ امریکہ طالبان کو شکست نہ دے سکا تو پاکستان کو اس کا قصور وار ٹھہرانا درست نہیں، حکومت میں آئے تو امریکہ کوصاف کہیں گے کہ جنگ ایسے نہیں جیتی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدرکے بیان سے پاکستانیوں کودکھ ہوا جب کہ ڈرون حملے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات بھڑکاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 17سال قبل بھی کہا تھا کہ مزید لڑائی اور خون بہانا کوئی جواب نہیں، امریکہ کو طالبان کو تباہ کرنے کی کوشش کے بجائے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ افغانستان میں طالبان کے محفوظ ٹھکانے ہیں اور وہ افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔

عمران خان نے سابق وزیراعظم سے متعلق کہا کہ نوازشریف کا پاکستان کی سیاست میں کوئی کردار نہیں، شریف فیملی کی سیاست سے ہمیشہ کے لیے چھٹی ہوگئی، پورا خاندان ہی کرپشن میں ملوث نکلا ہے، اب یہ کس منہ سے دوبارہ سیاست میں آئیں گے۔ تحریک انصاف انتخابات میں کامیاب ہوئی تو کرپٹ عناصر کو نہیں چھوڑے گی۔قبل ازیں چیئرمین تحریک انصاف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر آئی بی کے سربراہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی بی چیف چار دن لندن میں کیا کررہے تھے،

کیا وہ نااہل وزیراعظم سے ملنے گئے تھے؟ آئی بی چیف ریاست کا نمائندہ ہے شریف خاندان کا نہیں، انہیں ریاست کا وفادار ہونا چاہیے نوازشریف کا نہیں۔اس طرح کے اقدامات سے مافیا تمام قوانین اور جمہوری روایات کو توڑرہا ہے، اس طرح ریاستی اداروں کو تباہ کیا جارہا ہے، آئی بی چیف ایسا ماحول بنارہے ہیں جس سے اراکین اسمبلی نواز شریف کے ساتھ جڑے رہیں، آئی بی چیف نواز شریف کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری سمیت جعلسازی پرنااہل ہونے والے وزیر اعظم کو ملنے والا سرکاری پروٹوکول شرمناک ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…