پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سٹامپ پیپر اب ایسے ہی نہیں ملے گا بلکہ ۔۔۔! نیا قانون آگیا

datetime 24  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی) پنجاب حکومت نے پنجاب سٹامپ رولز 1934 میں ترمیم کا فیصلہ کر لیا ، شق 26، 28 اور 33 میں مجوزہ ترامیم منظوری کے لئے کابینہ کمیٹی کو بھجوا دی گئیں۔پنجاب حکومت کی جانب سے ای سٹامپنگ کا دائرہ کار تمام اقسام کے نان جوڈیشل سٹامپ پیپرز تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے پیش نظر پنجاب ای سٹامپنگ رولز 2016 اور پنجاب سٹامپ رولز 1934 کے مابین فرق ختم کرنے کے لئے ترامیم تجویز کی گئیں ہیں

جن کی منظوری محکمہ قانون کی جانب سے دی جا چکی ہے تاہم باقاعدہ منظوری کے لئے ترامیم کی سمری کابینہ کمیٹی کو بھجوا دی گئی ہے۔ پنجاب سٹامپ رولز 1934 کے مطابق 1000 روپے تک کے سٹامپ پیپرز صرف مقررہ دکاندار ہی جاری کرنے کے مجاز ہیں۔ سمری کے مطابق پنجاب سٹامپ رولز 1934 کی شق 26، 28 اور 33 میں ترامیم کی گئی ہیں جن کے مطابق چیف ریونیو اتھارٹی کی جانب سے مقرر کی گئی ویلیو سے زائد کا سٹامپ پیپر فروخت کے لئے کسی فرد کو لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔ دکاندار مقرر کردہ ویلیو سے زائد سٹامپ پیپرز فروخت کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ مقرر کردہ ویلیو سے کم کے نان جوڈیشل سٹامپ پیپرز طلب کرنے پر فراہم کئے جا سکتے ہیں۔سمری میں کہا گیا ہے کہ سٹاک میں شامل نہ ہونے پر دکاندار کم ویلیو کے دو یا دو سے زائد سٹامپ پیپر دے سکتا ہے، سٹامپ پیپر کی ویلیو مقررہ ویلیو سے تجاوز نہیں ہونی چاہیے، لائسنس یا سب لائسنس ہولڈر کو مقررہ ویلیو کے مطابق سٹامپ پیپر فروخت کیے جائیں گے۔ واضع رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ای سٹامپنگ کا دائرہ کار تمام اقسام کے نان جوڈیشل سٹامپ پیپرز تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے پیش نظر پنجاب ای سٹامپنگ رولز 2016 اور پنجاب سٹامپ رولز 1934 کے مابین فرق ختم کرنے کے لئے ترامیم تجویز کی گئیں ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…