پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ ،پنجاب حکومت کے جوابی اقدامات،بڑا قدم اُٹھالیا،متاثرین کا شدیدردعمل

datetime 23  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی) پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے عدالتی حکم کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی۔ہوم سیکرٹری پنجاب کی جانب سے ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں 20 سے زائد صفحات کی انٹرا کورٹ اپیل دائر کی گئی جس میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ رپورٹ پبلک کرنے کے متعلق درخواستیں فل بنچ کے روبرو زیرسماعت ہے،

فل بنچ کی موجودگی میں سنگل بنچ کیس کی سماعت نہیں کر سکتا جبکہ سنگل بنچ نے تحریری جواب جمع کروانے کا موقع ہی نہیں دیا۔اپیل کے مطابق آئینی درخواست میں تحریری جواب سنے بغیرہی فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جوڈیشل انکوائری حکومت صرف حقائق جاننے کیلئے ہوتی ہے تاکہ کسی بھی واقعہ کے حقائق سامنے آئیں اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔انکوائری رپورٹ جاری کرنا یا نہ کرنا حکومت کی صوابدیدی اختیار ہے اور وہ حالات کے مطابق فیصلہ کر سکتی ہے۔ انکوائری کوئی عدالتی فیصلہ نہیں ہوتا۔ اس کو بطورشہادت استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے عدالت ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔واضح رہے کہ جمعرات کے روز لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پرلانے کا حکم دے دیا تھا۔دریں اثناء سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لواحقین نے عدالتی حکم کے باوجود جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ پبلک نہ کرنے پر پنجاب حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی ۔لاہور ہائیکورٹ میں دائر توہین عدالت کی درخواست میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ، ہوم سیکرٹری اور چیف سیکرٹری پنجاب کو فریق بنایا ہے۔

درخواست میں بتایا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ہوم سیکرٹری پنجاب کو جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ کو متاثرین کو دینے کا حکم دیا لیکن عدالتی احکامات پر عمل در آمد نہیں کیا گیا۔ درخواست میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں ہے اور توہین عدالت قابل دست اندازی جرم ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ عدالتی حکم کے باجود پبلک نہ کرنے پر

خلاف فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ جبکہ عدالت متعلقہ اداروں کو رپورٹ میں ردوبدل نہ کرنے اور مصدقہ کاپی فراہم کرنے کا بھی حکم صادر کرے،عدالت نے موقف سننے کے بعد درخواست کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی ۔یاد رہے کہ جون 2014ء میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پیش آنے والے واقعے میں پاکستان عوامی تحریک کے 14 کارکنان جاں بحق ہوئے تھے جس پر جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن نے

انکوائری کی تھی تاہم اس انکوائری رپورٹ کو عام نہیں کیا گیا۔جمعرات کے روز لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ عام کرنے کا حکم دیا تھا تاہم پنجاب حکومت کی جانب سے رپورٹ کو عام نہیں کیا گیا جبکہ رپورٹ کے حصول کے لیے عوامی تحریک کے کارکنان نے سول سیکریٹریٹ کے باہر دھرنا بھی دیا تھا تاہم پنجاب حکومت نے ایسا کرنے کے بجائے فیصلے کے خلاف ہی اپیل دائر کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…