پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ساری دنیا جس مسئلے پر پریشان ہے، چینی سائنسدانوں نےاس کا حل پاکستان میں دریافت کر لیا

datetime 21  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پلاسٹک کاغذ اور لکڑی کی طرح گل کر ختم نہیں ہوتا بلکہ طویل عرصے تک موجود رہ کر ماحول میں آلودگی کا باعث بنتا رہتا ہے مگر اب پاکستان کے کوڑے میں ایک ایسے فنگس کا انکشاف ہوا ہے جو پلاسٹک کو چند ہفتوں میں ہی گلا کر ختم کر سکتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا فضا، سمندر، اور زمین میں پلاسٹک کی موجودگی کی وجہ سے پریشانی میں

مبتلا ہے اور اس کو تلف کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ چینی ماہرین نے پاکستان کوڑے سے ملنے والی ایک فنگس کو تبدیل کر کے اسے پلاسٹک تلف کرنے کے قابل بنایا ہے۔ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسپرجیلس ٹیوبنجینسس فنگس چند ہفتوں میں پلاسٹک کا کچرا ختم کر دیتی ہے اور یہ فنگس اسلام آباد کے ایک کوڑے دان سے ملی ہے تاہم چینی ماہرین نے اس پر مزید تحقیق کر کے بتایا ہے کہ اطراف کا درجہ حرارت، پی ایچ کا توازن، اور اگنے والے مقام اس فنگس کی صلاحیت پر اثرانداز ہوتے ہیں اور ماہرین فنگس کی بہترین کارکردگی کے لیے موزوں حالات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔چینی ماہرین کے مطابق ایسپرجیلس ٹیوبنجینسس تجربہ گاہ میں مؤثر ثابت ہوئی ہے اور اس کی تحقیقات سائنسی جریدے اینوائرمینٹل پلوشن میں شائع ہوئی ہیں۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ فنگس کا مرکزی حصہ مائسیلیئم پولی ایسٹر پولی یوریتھین پلاسٹک پر اپنی کالونی بناتا ہے اور پلاسٹک کی سطح پر خراشیں ڈال کر اسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار بناتا ہے۔اس سے قبل بھی بعض بیکٹیریا میں پلاسٹک تلف کرنے والے خواص دیکھے گئے ہیں۔ اسی برس ماہرین نے مومی سنڈی (ویکس ورم) کے بارے میں انکشاف کیا تھا کہ وہ قدرتی طور پر پلاسٹک تلف کرتی ہے کیونکہ اس کی خوراک شہد کے چھتوں کا موم ہے اور وہ پلاسٹک کو بھی موم سمجھ کر کھا جاتی ہے۔

چینی ماہرین نے تجربہ گاہ میں نوٹ کیا کہ ایسپرجیلس ٹیوبنجینسس کو ایک مائع میں رکھا گیا تو اس نے پلاسٹک کی ایک بڑی شیٹ کو اس حد تک تلف کر دیا کہ بعد میں اسے دستی طور پر ٹھکانے لگانا آسان ہو گیا لیکن اس عمل میں دو ماہ لگے۔ابتدائی تجربات میں اتنی کامیابی کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے اور ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ مستقبل قریب میں وہ پلاسٹک کو ٹھکانے لگانے کیلئے

موثر انداز میں کامیاب ہو جائیں گے اور اس کا دورانیہ کم بھی ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…