جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار قومی اسمبلی کے اجلاس میں کس پر برس پڑے؟دبنگ خطاب

datetime 20  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر داخلہ اور سینئر ن لیگی رہنما چوہدری نے رواں ماہ ہونے والی امریکی ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ڈرون حملے ناقابل قبول اور ہماری ملکی خودمختاری کے سرار خلاف ہیں، تعجب تو اس بات پر ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس پر کوئی مذمت نہیں کی گئی۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ن لیگ کے سینئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ 15 ستمبر کو ہونے والے ڈرون حملے کی روایتی مذمت بھی نہیں کی گئی، پاکستان مخالف برکس اعلامیہ پر سفارت کاروں سے جواب طلبی ہونی چاہئے۔اظہار خیال کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ ہمارے دوست کم، تنقید کرنے والے زیادہ ہیں، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دی ہیں، ڈرون حملے ناقابل قبول اور خودمختاری کیلئے چیلنج ہیں، 15 ستمبر کو ہونے والے ڈرون حملے کی روایتی مذمت بھی نہیں کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ برکس کانفرنس میں پاکستان کے خلاف قرارداد آئی، پاکستان مخالف برکس اعلامیہ پر سفارتکاروں سے جواب طلبی ہونی چاہئے، برکس اعلامیے کا ذمہ دار کون ہے؟۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت ایک سال سے برکس کی تیاری کر رہا تھا، برکس اعلامیہ ہماری ناکامی ہے، سفارت کاری 24 گھنٹے کا کام ہے، بھارت تیاری کرتا رہا، ہم سوئے رہے، ہمارے دوست کم اور دشمن زیادہ ہیں۔میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف اظہار خیال کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا روہنگیا کا مسئلہ انسانیت کیلئے شرمناک ہے، مسلمانوں کو جانوروں کی طرح ذبح کیا گیا، روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام میں میانمار حکومت شامل ہے، ایک قرار داد نہیں بلکہ عملی اقدامات بھی کرنا ہونگے، میانمار میں مظالم پر عالمی برادری خاموش بیٹھی ہے، دنیا مسلمانوں کے معاملات میں خاموش ہو جاتی ہے، او آئی سی بھی اگر نہیں جاگ رہی تو اسے ختم ہوجانا چاہیئے، روہنگیا مسلمانوں کے معاملے پر او آئی سی اجلاس بلایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…