بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

بدترین ماحولیاتی آلودگی،2100ء تک زمین ناقابل سکونت ہو جائیگی،ماہرین

datetime 18  ستمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی ماہرین کی ایک ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ 2100ء تک ماحولیاتی آلودگی اور زمین کا درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے زمین ناقابل سکونت ہو سکتی ہے اور درجہ حرارت میں صرف تین ڈگری اضافے کے نتیجے میں حالات تباہ کن ہوجائیں گے جبکہ پانچ ڈگری اضافے سے زمین سے نسل انسانی کا صفایا ہوجائے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہرین نے اپنی ریسرچ میں بتایا کہ 20 میں سے ایک واقعہ ایسا ہو سکتا ہے جو کم ترین امکانات کے باوجود وقوع پذیر ہو اور اس کے اثرات شدید ترین ہوں۔تحقیق میں شامل پروفیسر ویربھدرن راما ناتھن کا کہنا تھا کہ جب ہم پانچ فیصد امکانات کے ساتھ زبردست اثرات مرتب کرنے والے واقعات کی بات کرتے ہیں تو لوگ اسے مسترد کرتے ہیں لیکن 20 میں سے ایک موقع ایسا ہوگا کہ جس طیارے میں آپ سوار ہوں وہ تباہ ہوجائے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں اسکرپس انسٹی ٹیوٹ آف اوشینو گرافی کے محققین نے ایک ایسا ماڈل بنایا ہے جو زمین کو درپیش حالات کو درست انداز میں سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔ انہوں نے 2017 سے 2100 کے درمیان درجہ حرارت ایک ایک ڈگری اضافے کے ساتھ حسابات نوٹ کیے اور اعداد و شمار کے مطابق زمین پر مرتب ہونے والے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا۔ماہرین نے اپنی ریسرچ میں 2015 میں پیرس میں ہونے والے معاہدے کا بھی ذکر کیا جس میں مختلف ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ درجہ حرارت کو صنعتی انقلاب سے پہلے کے درجہ حرارت سے صرف 2 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رکھا جائے گا یعنی موجودہ درجہ حرارت میں 3.6 ڈگری کمی لائے جائے۔ موجودہ صورتحال

کا جائزہ لیا جائے تو زمین کے درجہ حرارت میں صرف 1.5 ڈگری کا اضافہ بھی نقصان دہ ہے اور ماہرین نے اس معمولی اضافے کو بھی خطرناک قرار دیا ہے کیونکہ یہ انسانوں اور قدرتی نظام میں نمایاں تبدیلیاں لا کر ماحول کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا تھاکہ معدنی وسائل سے پیدا کیے جانے والے ایندھن کے استعمال اور کاربن کے اخراج میں زبردست کمی لانا ہوگی جبکہ

میتھین گیس، ہائیڈرو فلورو کاربن کا اخراج بھی کم کرنا ہوگا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…