منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کی امریکہ سے ٹھن گئی،بڑا اختلاف،صاف انکار کردیاگیا

datetime 17  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی میں سب سے پہلے پاکستان ہونا چاہیے ٗجنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے حکام سے ملاقاتیں ہونگی ٗ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے ٗ رسمی ملاقات ہوسکتی ہے ۔گزشتہ روز دیئے گئے انٹرویو کے دور ان ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ پارٹی کے اندر کوئی اختلافات نہیں ہیں ٗ 28 جولائی کے بعد سابق وزیراعظم محمد نواز شریف ملک اور پارٹی کے اندر مزید مضبوط ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار الزامات کا سامنا کر رہے ہیں ،الزام ثابت ہونے تک وہ بے قصور ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی میں سب سے پہلے پاکستان ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے حکام سے ملاقاتوں کے علاوہ کاروباری کمیونٹی اور دیگر حکام سے بھی ملاقاتیں ہوں گی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے تاہم رسمی ملاقات ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بھارت کیساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں تاہم بھارت کی طرف سے کوئی مثبت ردعمل نہیں آیا بلکہ وہاں سے اشتعال زیادہ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں کشمیری عوام آزادی کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں ترمیم کی ضرورت ہے، اتفاق ہوا تو ضرور کریں گے، اگر دوتہائی اکثریت ہو تو پھر بھی اتفاق رائے کے بغیر ترمیم نہیں ہونی چاہئے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری پر پولیس کی طرف سے عمل درآمد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہدایات پر عمل ہونا چاہئے ٗافسران کے پاس ہدایات ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہے۔دریں اثناء وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی عسکریت پسندانہ سوچ ناکام پالیسی کی عکاس ہے ٗ

جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان میں قیام امن کے لئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویومیں خواجہ آصف نے کہا کہ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ امریکی فوج اس وقت افغانستان میں کیسے کامیاب ہوسکتی ہے جو اوبامہ انتظامیہ کے دور میں8گنا زیادہ طاقت کے ساتھ وہاں پر موجود تھی مگرکامیابی حاصل نہ کرسکی ۔

انہوں نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے ممبروں کو بتائیں گے کہ اس علاقے میں امن واپس آنا چاہئے۔ افغان جنگجوؤں کے لئے فوجی حل قابل قبول نہیں ہے ٗاس کوسیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ افغانستان میں سیاسی حل کے لئے یہ ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں وہاں پر سرمایہ کاری کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…