منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ملک سے غربت کے خا تمہ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، ماروی میمن

datetime 15  ستمبر‬‮  2017 |

ہری پور(آئی این پی)وزیر مملکت و بی آئی ایس پی کی چیئر پرسن ماروی میمن نے کہا ہے کہ ملک سے غربت کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں ضلع ہری پور رول ماڈل ضلع بن چکا ہے ہزاروں مستحق خاندانوں کو شفاف طریقے سے بائیو میٹرک سسٹم کے تحت رقوم کی منتقلی کا

سلسلہ بھی جاری ہے ڈیسک اپروچ کو ہر صورت یقینی بنا رہے ہیں تاکہ مستحق خواتین کو سہولیات فراہم کرسکیں ضلع ہری پور کے پہاڑی پسماندہ علاقوں بیڑ کلنجر صوابی میرا سمیت دیگر علاقوں میں جلد گھر گھر سروے کا آغاز شروع کر دیا جائے گا جو خاندان پہلے اس سروے میں اپنا اندراج نہیں کروا سکے آئندہ ہونے والے گھر گھر سروے کے دوران اپنے خاندان کے اندراج کو یقینی بنائیں بی آئی ایس پی ملک سے غربت کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہے ہزاروں خاندانوں کو بروقت شفاف طریقے سے رقم کی منتقلی کا سلسلہ بھی جاری ہے ملک بھر سے لاکھوں خواتین اس سے مستفید ہو رہی ہیں اس پروگرام کا مقصد ہی خواتین کو اپنے پائوں پرکھڑا کرنا ہے تاکہ اپنے خاندان کی کفا لت کے ساتھ معاشرے میں عزت وقارکے ساتھ زندگی گزار سکیں اس پروگرام کی بائیو میٹرک سسٹم اور شفافیت کی بدولت ورلڈ بینک سمیت دیگر بین الاقوامی ڈونرز بھی اس کا

اعتراف کر چکے ہیں ہری پور صوبہ بھر میں ہمارے لیے رول ماڈل ضلع کی حثیت رکھتا ہے جہاں دیگر اضلاع سے زیادہ مستحق خاندانوں کو پرامن شفاف طریقے سے رقم کی منتقلی کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے بی آئی ایس پی کی چیئر پرسن ماروی میمن ہری پور کے علاقہ کلنجر میںاپنے دورہ

کے دوران علاقہ کی خواتین اور معززین علاقہ سے گفتگو کر رہی تھیںبعد ازں انھوںنے گھر گھر سروے ٹیم کے دفاتر کا بھی دورہ بھی کیا جہاں ان کو سروے کے دوران رہ جانے والے پسماندہ علاقوں میں کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئیں بی آئی ایس پی کی چیئر پرسن نے سروے ٹیم میں رہ جانے والے مستحق

خواتین کی مشکلات کو مدنطر رکھتے ہوئے سروے ٹیم کو احکامات بھی جاری کیے اور گھر گھر سروے کو ایک بار پھر سے جلد شروع کرکے مستحق خاندانوں کا جلد ڈیٹا فراہم کیا جائے تاکہ ان کو باضابطہ رجسٹرڈ کیا جا سکے صحافیوں سے گفتگو کے دوران انھوںنے کہا کہ اس پروگرام پر انگلیاں اٹھانے

والے اس پروگرام کے سسٹم کو نہیں سمجھ پا رہے ہیں رقم کی منتقلی بینکوں کے زریعے کی جارہی ہے خواتین اپنے کارڈ کے زیعے بائیو میٹرک سسٹم کے تحت ماہانہ وظیفہ حاصل کر ر ہی ہیں اس کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ سسٹم کو فعال کیا گیا ہے تاکہ کوئی فرد رقم کی خرد بردنہ کر سکے

ان کی خواتین خاندانوں کو رقم فراہم کی جاتی ہے جن کا سروے کے دوران اندراج کے بعد پروگروام میں ڈیٹا شامل کر لیا جاتا ہے شہری سروے ٹیم کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھیں علاقائی دفاتر مستحق خاندانوںکی خواتین سے مکمل آگاہی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…