منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

چیئرمین سینٹ نے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 13 میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کے معاملے پر 8 رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دیدی

datetime 15  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات بالخصوص سیکٹر ایچ 13 میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کے معاملے پر 8 رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دیدی جبکہ وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی دار الحکومت میں غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کے لئے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے اور ایک ٹاسک فورس بھی

تشکیل دی جا رہی ہے ، ماضی میں سی ڈی اے کے ریگولیشنز اور بائی لاز پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، سیکٹر ایچ 13 اور جی 12 سمیت مختلف علاقوں میں قوانین متعارف کرائے جائیں گے، دیہی علاقوں کو بھی کسی ضابطے کے تحت لائیں گے۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر جاوید عباسی کے توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایچ تھرٹین کو ایکوائر کرنا سی ڈی اے کی پلاننگ میں ضرور ہے لیکن ابھی ایکوائر نہیں کیا، وہاں بہت غیر قانونی تعمیرات ہو رہی ہیں۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ ذاتی اراضی پر بھی تعمیرات کے لئے مادر پدر آزادی تو نہیں ہوتی۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سی ڈی اے قوانین موجود ہیں لیکن ماضی میں قوانین پر سختی سے عملدرآمد نہیں ہوا، سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ ذاتی زمین پر تعمیرات سے کوئی نہیں روک سکتا اس کی آڑ میں لوگ تعمیرات کرتے ہیں، ہم اپنی کارروائی کرتے ہیں۔ چیئرمین نے کہا کہ کوئی اپنے پلاٹ کو کمرشل مقاصد کے لئے کیسے استعمال کر سکتا ہے، اس کے لئے قوانین ہوتے ہیں۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ 55 سالوں میں سی ڈی اے کے ریگولیشنز میں اسلام آباد پانچ زونز میں تقسیم کیا گیا، ہر زون کے اپنے قواعد ہیں، ہر کسی کے بائی لاز ہیں لیکن ماضی میں ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، میٹرو پولیٹن کارپوریشن بننے کے بعد بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بنائی

جا رہی ہے، ایف 12، جی 12، ایچ تھرٹین میں ان ایریا کو بجلی سوئی گیس کے کنکشن بند کرنے کی بات بھی ہوئی، غیر قانونی تعمیرات کو کنکشن نہیں دیئے جا رہے، دیہی علاقوں کو بھی کسی ضابطے کے تحت لائیں گے، غیر قانونی سوسائٹیوں کو بھی کنکشن نہیں دے رہے۔ سی ڈی اے کی اراضی پر غیر قانونی تعمیرات کو رکوانے کے لئے تجاوزات کے خلاف ٹاسک فورس بنا رہے ہیں، پورے پاکستان میں سب سے زیادہ آبادی اسلام

آباد کی بڑھ رہی ہے، اپنے دور میں قوانین کو بہتر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گولڑہ رینو سٹیٹ جس میں چار سیکٹر آتے ہیں اسے ایوب دور سے مخصوص رعایت دی گئی تھی۔ بعد ازاں وہاں سوسائٹیز بن گئیں، وہاں بھی غیر قانونی سوسائٹیوں کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں، غیر قانونی تعمیرات سے لوگوں کو آگاہ کرتے رہتے ہیں جو مارکیز وہاں لگی ہیں ان پر سی ڈی اے کے قواعد لاگو نہیں ہوتے، وہاں ضلعی انتظامیہ کی عملداری ہے۔ قبل ازیں توجہ مبذول نوٹس پر سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ سی ڈی اے نے اگر ایچ 13 میں تعمیرات کی اجازت دی ہے تو مجھے اعتراض نہیں لیکن سی ڈی اے نے دو سیکٹرز کے بارے میں اشتہار دیا کہ یہاں تعمیر و خرید و فروخت کرنے والا خود ذمہ دار ہو گا۔ ای الیون میں مارکیز میں رات گئے تک تقریبات جاری رہتی ہے، نسٹ یونیورسٹی کے سامنے بھی بڑی بڑی عمارتیں شورومز مارکیز بن رہی ہیں کیا یہ قانونی طور پر بن رہی ہیں؟ اسلام آباد میں ہائوسنگ سوسائٹیوں میں مالکان پلاٹ بیچ کر خود نکل گئے ہیں، لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات کا معاملہ بہت حساس ہے لیکن وفاقی وزیر کے تفصیل سے جواب کے باوجود اس میں لوپ پولز موجود ہیں، ارکان کی اجازت سے اس معاملے پر 8 رکنی سپیشل کمیٹی قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے بنائی جائے گی۔ منگل کو اس کمیٹی کے ناموں کا اعلان کر دیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…