جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

میری کامیابی کاسہرا میرے مرشد کے سر جاتا ہے‘اداکارہ کرن ڈوبے کا انکشاف

datetime 12  ستمبر‬‮  2017 |

ممبئی (این این آئی)بھارت کی چھوٹی اسکرین پر جلوے بکھیرنے والی ادکارہ کرن ڈوبے نے انکشاف کیا ہے کہ آج وہ جس مقام پر ہیں، وہ سب ان کے مرشد ’رجنیش اوشو‘ کی وجہ سے ہے۔خیال رہے کہ کرن ڈوبے ابھی تک بولی وڈ میں کسی بڑے منصوبے کا حصہ نہیں بن سکیں، البتہ انہوں نے ایک ہولی وڈ تھرلر ڈاکیومینٹری میں کام کیا ہے۔کرن ڈوبے بھارتی ٹیلی وژن کی معروف اداکارہ ہیں، ان کے مشہور ڈراموں میں ’کیوں کہ ساس

بھی کبھی بہو تھی‘ اور ’کہانی گھر گھر کی‘ شامل ہیں۔کرن ڈوبے نے 2015 میں ہولی وڈ تھرلر ڈاکیومینٹری ‘ویئر از شی ناؤ‘ میں بھی کام کیا تھا، ڈاکیومینٹری میں ان کے کردار کو سراہا گیا تھا۔ہندوستان ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کرن ڈوبے نے اعتراف کیا کہ وہ ’رجنیش اوشو‘ کی بہت بڑی فالوؤرز ہیں، کیوں کہ انہوں نے 14 برس کی عمر میں ان کی تعلیمات لینا شروع کردی تھیں۔کرن ڈوبے کے مطابق ان کے والد بہت بڑے لبرل تھے، جس وجہ سے انہوں نے کم عمری میں ہی انہیں رجنیش اوشو کی تعلیمات سے باخبر کیا، اور وہ سمجھتی ہیں کہ ان کی کامیابیوں کی وجہ ان کے مرشد کی تعلیمات ہی ہیں۔کرن ڈوبے نے اپنے پسندیدہ شہر سے متعلق بتایا کہ انہیں ریاست مہاراشٹرا کا شہر ’پونے‘ سب سے زیادہ پسند ہے، کیوں کہ وہ کم عمری میں ہی اس شہر منتقل ہوئی تھیں، جہاں انہوں نے کالج کی تعلیم حاصل کی۔خیال رہے کہ کرن ڈوبے اب پونے نہیں بلکہ ممبئی میں رہتی ہیں، انہوں نے ٹی وی پر اداکاری کی شروعات 2008 میں کی۔ہندو گرو رجنیش اوشو کا تعلق بھی پونے سے ہی تھا، وہ جنوری 1990 میں چل بسے تھے۔رجنیش اوشو کو متنازع روحانی پیشوا اور گرو کے طور پر جانا جاتا ہے۔



کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…