اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پیک فیکٹر دراصل کیا ہے؟نجی شعبے کی کار سروس استعمال کرنے والوں کو کیسے لوٹاجارہاہے؟حیرت انگیز انکشافات

datetime 11  ستمبر‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ملک کے بڑے شہروں میں چلنے والی نجی شعبے کی کار سروس مسافروں کے لیے پیک فیکٹر اور ویٹنگ کے نام پر زائد بلنگ کے باعث درد سر بن گئی۔ تفصیلات کے مطابق مذکورہ نجی کار سروس کو استعمال کرنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے شکایت کی ہے کہ ابتدا میں بہترین سروس مہیا کرنے والی کار سروس اب پیک فیکٹراور ویٹنگ کے نام پر زائد بلنگ کر رہی ہے ۔

موصول مصدقہ اطلاعات کے مطابق واٹر پمپ کراچی سے نظام نامی ایک شہری نے لانڈھی بابر مارکیٹ کے لیے ٹیکسی سروس حاصل کی۔ منزل مقصود پر پہنچ کر ڈرائیور نے 1416 روپے طلب کیے جو عام طور پر اس فاصلے کے لیے 300فیصد زائد بنتے ہیں۔تاہم شہری نے وہ کرایہ ادا کیا اور کمپنی کو ای میل کے ذریعے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔اس ای میل کے جواب میں ٹیکسی سروس کی انتظامیہ کی جانب سے زائد کرائے کا عجیب و غریب عذر پیش کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری ای میل کے مطابق شہریوں کی طلب کے مقابلے میں گاڑیاں کم ہیں اس لیے اس کیس میں پیک فیکٹر2اعشاریہ9 کا فارمولا لگایا گیا ہے جس کے مطابق 928روپے سرچارج لگایا گیا ہے۔ کرائے کے بریک اپ کے مطابق سفر شروع کرنے کی مد میں 75، کلومیٹر اصل کرایہ 236 روپے، ویٹنگ بمعہ ابتدائی کرایہ177شامل کرکے مجموعی کرایہ1416روپے بنتا ہے۔ جوابی میل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیک فیکٹر کی نشاندہی ویب ایپلی کیشن پر موجود ہوتی ہے جو وقتا فوقتا ایک اعشاریہ ایک سے 3اعشاریہ8تک جاسکتی ہے۔ ابتدا میں بہترین سروس مہیا کرنے والی کار سروس اب پیک فیکٹراور ویٹنگ کے نام پر زائد بلنگ کر رہی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…