جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

پیک فیکٹر دراصل کیا ہے؟نجی شعبے کی کار سروس استعمال کرنے والوں کو کیسے لوٹاجارہاہے؟حیرت انگیز انکشافات

datetime 11  ستمبر‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ملک کے بڑے شہروں میں چلنے والی نجی شعبے کی کار سروس مسافروں کے لیے پیک فیکٹر اور ویٹنگ کے نام پر زائد بلنگ کے باعث درد سر بن گئی۔ تفصیلات کے مطابق مذکورہ نجی کار سروس کو استعمال کرنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے شکایت کی ہے کہ ابتدا میں بہترین سروس مہیا کرنے والی کار سروس اب پیک فیکٹراور ویٹنگ کے نام پر زائد بلنگ کر رہی ہے ۔

موصول مصدقہ اطلاعات کے مطابق واٹر پمپ کراچی سے نظام نامی ایک شہری نے لانڈھی بابر مارکیٹ کے لیے ٹیکسی سروس حاصل کی۔ منزل مقصود پر پہنچ کر ڈرائیور نے 1416 روپے طلب کیے جو عام طور پر اس فاصلے کے لیے 300فیصد زائد بنتے ہیں۔تاہم شہری نے وہ کرایہ ادا کیا اور کمپنی کو ای میل کے ذریعے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔اس ای میل کے جواب میں ٹیکسی سروس کی انتظامیہ کی جانب سے زائد کرائے کا عجیب و غریب عذر پیش کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری ای میل کے مطابق شہریوں کی طلب کے مقابلے میں گاڑیاں کم ہیں اس لیے اس کیس میں پیک فیکٹر2اعشاریہ9 کا فارمولا لگایا گیا ہے جس کے مطابق 928روپے سرچارج لگایا گیا ہے۔ کرائے کے بریک اپ کے مطابق سفر شروع کرنے کی مد میں 75، کلومیٹر اصل کرایہ 236 روپے، ویٹنگ بمعہ ابتدائی کرایہ177شامل کرکے مجموعی کرایہ1416روپے بنتا ہے۔ جوابی میل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیک فیکٹر کی نشاندہی ویب ایپلی کیشن پر موجود ہوتی ہے جو وقتا فوقتا ایک اعشاریہ ایک سے 3اعشاریہ8تک جاسکتی ہے۔ ابتدا میں بہترین سروس مہیا کرنے والی کار سروس اب پیک فیکٹراور ویٹنگ کے نام پر زائد بلنگ کر رہی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…