اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے مونال ریسٹورنٹ پر پنجاب فوڈ اتھارٹی پر چھاپے کے خلاف وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کی رپورٹ کو پبلک کرنے کا حکم دے دیا ، رپورٹ میں مبینہ طور پرعائشہ ممتاز کے خلاف کاروائی کی سفارش کی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس عائشہ اے ملک نے مقامی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کی درخواست پر فیصلہ سنایا اور درخواست منظور کر لی.رپورٹ کے مطابق مقامی ریسٹورنٹ کو ٹھوس ثبوتوں کے بغیر سربمہر کیا گیا اور یہ بھی اعتراف کیا گیا کہ
ریسٹورنٹ کو خامیاں دور کرنے کے لئے اتھارٹی کو ایک نوٹس دینا چاہیے تھا، رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی گئی کہ اتھارٹی کے چھاپے کے بعد مونال ریسٹورنٹ کے معیار میں بہتری آئی، رپورٹ میں اس اعتراض کو بھی تسلیم کیا گیا کہ تھارٹی کو مبینہ زائد المعیاد گوشت کے لیبارٹری ٹیسٹ کرانے چاہیے تھے اور ریسٹورنٹس پر چھاپے اتھارٹی کی ماہرین پر مشتمل ٹیم کو مارنے چاہئیں، رپورٹ میں یہ بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ ماہرین پر مشتمل ٹیم کے لئے اتھارٹی نے کوئی ایس او پیز نہیں بنائے ،رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی کہ اتھارٹی کو انسپکشن ٹیم کے خلاف اپیل کے لئے بھی رولز بنانے چاہیں اور وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم کی عائشہ ممتاز اور انکی ٹیم کے خلاف انکوائری کی جائے۔واضح رہے کہ عائشہ ممتاز اپنےچھاپوں کےباعث مشہور تھیں



















































