جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

کیا آپ اپنے شناختی کارڈ کے 13 ہندسوں کا مطلب جانتے ہیں؟اگر نہیں تو آئیے آپ کو آج بتاتے ہیں

datetime 9  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے جاری ہونے والا قومی شناختی کارڈ پاکستانی شہری ہونے کی پہچان ہے اور اس پر درج 13 اعداد کے شناختی کارڈ نمبر کے ہر عدد کے پیچھے ایک راز چُھپا ہے۔ پاکستانی شہریت کے ثبوت ’شناختی کارڈ‘ پر درج یہ 13 ہندسوں کا نمبر ہر پاکستانی کے لیے بالکل مختلف ہوتا ہے۔یہ نمبر تین ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا ہے جس کے پہلے 5 عدد مثلاً ’’12101‘‘ میں سب سے پہلا نمبر یعنی ’1‘، آپ کے صوبے کی نشاندہی کرتاہے،

جن لوگوں کے شناختی کارڈ کا نمبر 1 سے شروع ہوتا ہے وہ خیبر پختونخوا کے رہائشی ہیں۔ اسی طرح اگر نمبر 2 ہے تو وہ شخص فاٹا، 3 ہے تو پنجاب ،4 ہے تو سندھ، 5 ہو تو بلوچستان ، 6 ہو تو اسلام آباد اور 7 ہو تو گلگت بلتستان کا ہو گا۔قومی شناختی کارڈ میں دوسرا نمبر آپ کے ڈویژن کو ظاہر کرتا ہے یعنی ہر ڈویژن کو ایک الگ شناخت نمبر دیا گیا ہے جبکہ باقی تین عدد آپ کے ضلع اس کی تحصیل اور یونین کونسل کو ظاہر کرتے ہیں۔شناختی کارڈ کے درمیان میں درج سات ہندسوں کا نمبر (یعنی دونوں ڈیش کے درمیان والا نمبر) دراصل ایک کوڈ ہے جو خاندان نمبر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔مثلا ’’XXXXX-1234567-X‘‘ اس کوڈ کے ذریعے شجره یعنی فیملی ٹری تشکیل پاتا ہے۔ انہی نمبرز کے سب سے آخر میں ہائفن کے بعد درج نمبر جنس ظاہر کرتے ہیں جس میں مردوں کے لیے طاق اعداد یعنی 1-3-5-7-9 اور عورتوں کے لیے جفت اعداد یعنی 2-4-6-8 رکھے گئے ہیں اور اس طرح نادرا کے خودکار نظام کے تحت ہم سب کا قومی شناختی نمبر وجود میں آتا ہے :-

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…