جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

پھر کیوں نہ مصیبت آئے؟؟؟ پاکستان میں اسقاط حمل کے ذریعے کتنے لاکھ بچے دنیا میں آنے سے پہلے ہی ضائع کردیئے گئے؟لرزہ خیزانکشافات

datetime 8  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں اسقاط حمل کی وجہ سے گزشتہ 5سالوں میں 22لاکھ بچے ضائع کر دئیے گئے ،پاکستان میں سالانہ سالانہ 35% بچے پیدائش سے دیگر مسائل اور بیماریوں کی وجہ سے قبل مر جاتے ہیں،سالانہ 20فیصد بچے اسقاط حمل کی وجہ سے دنیا میں آنے سے پہلے ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ، چیئرمین کمیٹی خالد مگسی نے موجودہ حکومت کے د ور میں صحت کے شعبہ سے متعلق ناکامی کا اعتراف کر لیا ،

وفاقی وزیر صحت قومی سائرہ افضل تارڑ کی جانب سے بھی اسلام آباد میں موجود صحت کی سہولیات دیگر پسماندہ علاقوں سے بھی کم ترہونے کا انکشاف کیا گیا،اجلاس میں کیڈ اور ضلعی اداروں کے تمام منصوبوں کو نیشنل ہیلتھ اینڈ ریگولیشن سروسز کے ماتحت کرنے کی سفارش کر دی گئی ،وزراعظم کی جانب سے فیڈرل ہیلتھ اتھارٹی کے قیام کی منظوری بھی کا جلد امکان ، علمائے کرام کے ذریعے عوام میں خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق مدد لینے کی بھی سفارش کی گئی ۔ گزشتہ روزقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت میں ڈاکٹر ناصرہ تسنیم نے انکشاف کیاہے کہ ملک میں اسقاط حمل کی وجہ سے گزشتہ 5سالوں میں 22لاکھ بچے ضائع کر دئیے گئے اور دیگر مسائل اور بیماریوں کی وجہ سے سالانہ 35% بچے پیدائش سے قبل ہی مر جاتے ہیں۔بتایا گیا کہ ہر سال20فیصد بچے اسقاط حمل کی وجہ سے دنیا میں آنے سے پہلے ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ چیئرمین کمیٹی خالد مگسی نے کہاموجودہ حکومت کے د ور میں صحت کے شعبہ سے متعلق کچھ بھی مثبت نہیں ہوا اور انہوں نے کہا کہ سینٹ میں نقطہ اعتراض جمع کرایاجائے کہ آخر صحت کے کے تمام ادارے کس کے ماتحت ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت کے زیادہ مسائل غریب لوگوں کے ساتھ ہیں جبکہ امیروں کے پاس تو بہت سارے ذرائع ہوتے ہیں ۔وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے بھی اسلام آباد میں صحت کی سہولیات کو ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں کے برابر قرار دے دیا،

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس خالد مگسی کی سربراہی میں اجلاس شروع ملک میں سالانہ 35% بچے پیدائش سے قبل مر جاتے ہیں ڈاکٹر ناصرہ تسنیم فیصد بچے اسقاط حمل کے ذریعہ ضائع کر دئیے جاتے ہیں موزیر اعظم بہت جلد فیڈرل ہیلتھ اتھارٹی کی منظوری دے دیں گے سائرہ افضلسینٹ میں نقطہ اعتراض جمع کرایا جائے اور پتہ چلایا جائے کے وفاقی دارلحکومت کے صحت کے ادارے کس کے ماتحت ہیں

سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ پوری دنای میں صحت اور تعیم کے ادارے وفاق کے پاس ہیں جبکہ پاکستان میں اس پر کوئی حکمت عملی نہیں بنائی جارہی ۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارہ آبادی دیکھ کر ہمسایہ ممالک بھی پریشان ہیں ۔ماضی میں دیگر ممالک سے لاگ پاکستان میں صحت کے شعبہ میں ٹریننگ لیا کرتے تھے ۔کمیٹی اجلاس میں ہوٹا بل ڈیفر کر دیا گیا ۔ وقت کی کمی کے باعث سگریٹ بل پر بحچ اگلے اجلاس تک ملتوی کر دی گئی ۔ڈریپ کی طرف سے ادویات کی قیمتیں بڑھانے سے متعلق بحث کو بھی اگلے اجلاس تک ملتوی کر دیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…