اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میںامریکی فوج کی ایک اور توہین آمیز حرکت کتے کی تصویر اوراس پر قرآنی آیت لکھ کر پمفلٹ تقسیم!!

datetime 7  ستمبر‬‮  2017 |

کابل (این این آئی)افغانستان میں امریکی فوج نے انتہائی توہین آمیز اور شرمناک حرکت کی ہے۔ اب کے اس نے ایک ایسا پمفلٹ تیار کیا ہے جس پر کتے کی تصویر ہے اور اس پر قرآنی آیت لکھی ہوئی ہے ۔اس توہین آمیز پمفلٹ کو امریکی فوج نے شمالی صوبے پروان میں گرا یا ۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس پرچے کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہے۔اس میں ایک شیر ایک سفید کتے کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔کتے کے جسم پر

مسلمانوں کے پہلے کلمہ طیبہ کے الفاظ لکھے ہیں۔ امریکیوں نے اس کتے کو طالبان مزاحمت کاروں سے تشبیہ دی ہے کیونکہ ان کے جھنڈے کا رنگ بھی سفید ہے۔اس پرچے پر درج عبارت کے الفاظ یہ ہیں، ان کتوں سے اپنی آزادی واپس لیجیے۔ان دشمنوں کو نیست ونابود کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی مدد کیجیے۔اپنی آزادی واپس لیجیے اور سکیورٹی کو یقینی بنائیے۔امریکا کی قیادت میں نیٹو فورسز طالبان مزاحمت کاروں کے خلاف مقامی آبادی کی حمایت کی غرض سے اس طرح کی اشتعال انگیز عبارتوں پر مبنی پرچے گراتی رہتی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ انھوں نے طالبان کی تحقیر کے لیے کتے پر کلمہ طیبہ کے الفاظ لکھ دیے ہیں اور اس طرح اسلام اور مسلمانوں دونوں کی بدترین توہین کا ارتکاب کیا ہے۔سوشل میڈیا کے صارفین نے کلمہ اسلام کی اس طرح بے توقیری کی شدید مذمت کی ہے۔ایک صارف نے تو فیس بک پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کافر اور ان کے غلام موت کے حق دار ہیں ۔افغانستان میں امریکا اور نیٹو کی خصوصی فورسز کے سربراہ میجر جنرل جیمز لنڈر نے اس پمفلٹ کے ڈیزائن پر معافی مانگ لی ہے اور اس کو ایک غلطی قرار دیاہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ اس پمفلٹ میں غلطی سے ایک ایسی تصویر شامل ہے جو مسلمانوں اور اسلام دونوں کے لیے انتہائی توہین آمیز ہے۔میں مخلصانہ طور پر اس پر معذرت خواہ ہوں۔ ہمیں اسلام اور دنیا

بھر میں اپنے مسلم شراکت داروں کا احترام ہے۔صوبہ پروان میں واقع بگرام ائیربیس پر موجود خصوصی آپریشن فورسز کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔یادرہے کہ 2012 میں امریکی فوجیوں نے افغانستان میں قرآن مجید کے نسخے نذر آتش کردیے تھے ۔اس توہین آمیز حرکت کے خلاف ملک میں کئی روز تک پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے تھے اور ان میں کم سے کم چالیس افراد مارے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…