جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

نیب آرڈیننس میں سقم ،شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے ساتھ اب کیا کچھ ہوسکتاہے؟قانو نی ما ہر ین کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 6  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد( آن لائن) قومی احتساب آرڈیننس میں موجود سقم کی وجہ سے قومی احتساب بیورو (نیب) سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کے بچوں اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بعد انہیں گرفتار نہیں کرسکتا۔ قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) کی دفعہ 24 اے کے مطابق چیئرمین نیب کے پاس تفتیش یا تحقیقات کے دوران اور ٹرائل کی سماعت کے دوران بھی ملزم کے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کے اختیارات ہیں۔

میڈ یا رپو رٹ کے مطا بق نیب کے ترجمان نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے میں دی گئی ہدایات کے مطابق نیب احتساب عدالت میں مقررہ وقت سے قبل ریفرنس دائر کردے گا۔ انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی گرفتاری کے امکانات پر کسی قسم کا رد عمل نہیں دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بیورو نے عدالت عظمیٰ کو بھیجے گئے خط میں ریفرنس دائر کرنے کے حوالے سے رہنمائی کی درخواست کی ہے۔خیال رہے کہ ریفرنس دائر کرنے کی ڈیڈ لائن 8 ستمبر ہے، عدالت عظمیٰ نے بیورو کو سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز، صاحبزادی مریم صفدر، داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر اور سمدھی اسحٰق ڈار کے خلاف 6 ہفتے میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس آرڈیننس کی دفعہ 24، جو ملزم کی گرفتاری سے متعلق ہے، کی ذیلی شق سی میں اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ ’ذیلی شق اے میں دیا گیا اختیار کیسز پر بھی لاگو ہوتا ہے، جو کہ پہلے ہی عدالت میں پیش کیے جاچکے ہوں۔نیب شریف خاندان کے خلاف فلیگ شپ انویسمنٹ، ہارٹ اسٹون پراپرٹیز، کیو ہولڈنگز، کیونٹ ایٹون پلیس ٹو، کیونٹ سالوانے (سابقہ کیونٹ ایٹن پلیس لمیٹڈ)، کیوٹن لمیٹڈ، فلیگ شپ سکیورٹیز، کیونٹ گلوسیسٹرپلیس، کیونٹ پاڈنگٹن (سابقہ ریویٹس اسٹیٹ لمیٹڈ)، فلیگ شپ ڈویلپمنٹس، برطانونی جزیرے ورجن ائی لینڈ کی الانے سروسز، لنکن ایس اے (بی وی آئی)، شیڈرون اینک، اینسبیچر، کومبر اور کیپٹل فری زون اسٹیبلشمنٹ (دبئی) سے متعلق ریفرنس دائر کرے گی۔

قانونی ماہرین کے مطابق انسداد کرپشن اور خصوصی قانون کے تحت ناقابل ضمانت جرم کی سزا 3 سال تک قید ہوسکتی ہے۔دوسری جانب ناقابل ضمانت جرم میں ملزم ٹرائل کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرسکتا ہے اور کیس دائر ہونے کی صورت میں ملزم ضمانت حاصل نہیں کرسکے گا اور اسے حراست میں لیا جاسکتا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ نیب احتساب آرڈیننس، نیب کے چیئرمین کو تمام اختیارات دیتا ہے، کرپشن کیسز میں چیئرمین کو گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کا اختیار ہے۔ایک سینئر وکیل امجد اقبال قریشی، جو احتساب کے قانون سے واقف ہیں، کا کہنا تھا کہ نیب چیئرمین نے ماضی میں متعدد مواقع پر اور انتہائی معمولی نوعیت کے کیسز میں گرفتاری وارنٹ جاری کیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…