جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

بینظیر قتل کیس میں بری ہونے والے پانچ افراد کے ساتھ کیا ہوا؟برطانوی نشریاتی ادارے نے سنگین دعویٰ کردیا

datetime 6  ستمبر‬‮  2017 |

راولپنڈی (این این آئی) سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں بری کیے جانے والے پانچ افراد کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے ۔ بی بی سی کے مطابق بینظیر بھٹو قتل کیس کے فیصلے کے فوری بعد پنجاب حکومت نے وزارت داخلہ اور پولیس کے انسداد دہشت گردی کے محکمے کی سفارشات کی روشنی میں ان افراد کو خدشہ نقص امن کے تحت 30 روز کے لیے نظربند کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ31 اگست کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مذکورہ پانچ افراد کو رہا جبکہ سابق ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد کو 17،17 سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔سابق وزیر اعظم کے قتل کے بعد ان افراد کو مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ گذشتہ 9 سال سے اڈیالہ جیل میں قید تھے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق قتل کے مقدمے میں رہائی پانے والے افراد کو نہ ہی اپنے رشتہ داروں سے ملنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی اْنھیں اس مقام کے بارے میں بتایا گیا ہے جہاں پر ان افراد کو رکھا گیا ۔پولیس ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں کالعدم تحریک طالبان نے مالاکنڈ ڈویژن کے کمشنر کے توسط سے حکومت کو جن 300 افراد کو رہا کرنے کے بارے میں کہا تھا ان میں بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے رفاقت اور حسنین گل بھی شامل تھے تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے ان افراد کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔دوسری طرف وفاقی حکومت نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں اس فیصلے کی مصدقہ نقول حاصل کرنے کیلئے متعلقہ عدالت میں درخواست دے دی ہے۔اس مقدمے کے پراسیکیوٹر چوہدری اظہر نے بی بی سی کو بتایا کہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے 15 ستمبر کو فیصلے کی مصدقہ نقل مل جائے گی۔

پیپلز پارٹی نے بھی بینظیر بھٹو کے قتل کے اس عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ تو کیا ہے تاہم ابھی تک اس جماعت کی طرف سے اس فیصلے کی مصدقہ نقل حاصل کرنے کیلئے متعلقہ عدالت میں درخواست نہیں دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…