منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

خدا کرے حضرت علیؓ کی تلوار یہاں آجائے اور کرپٹ لوگوں کے سربلا امتیاز کاٹے جائیں

datetime 31  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد( آن لائن) سپریم کورٹ نے کراچی میں کنسٹرکشن کمپنی بناکر مبینہ ملی بھگت سے اربوں روپے کی جائیدا د بنانے والے ملزم کی جانب سے ضمانت کیلئے دائردرخواست مسترد کردی جس پر عدالت کے احاطہ سے ملزم محمداخلاق میمن کو گرفتار کرلیا گیا ہے دوران سماعت عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بااثرملزم کودوسال تک عبوری ضمانت پررکھا گیا، کیا عدالتوں سے غریب آدمی کو عبوری ضمانت ملتی ہے؟،

نظام انصاف پرانگلیاں اٹھ رہی ہیں، آبادی بڑھنے کے ساتھ ججوں کی تعداد بڑھانے پربھی غور کرناچاہیے۔ ملزم پر اربوں روپے کی جا ئیداد چند کروڑ روپے میں حاصل کر نے کا الزام تھا، اس نے 3 تلوار کے علاقہ میں اربوں روپے کا پلاٹ 60 کروڑ روپے میں خریدا لیکن صرف 4 کروڑ 80 لاکھ جمع کرا کر پلاٹ اپنے نام کرا لیا تھا، جس پرنیب نے اس کیخلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائرکیا تھا۔ملزم کے وکیل لطیف کھو سہ نے موقف اپنایا کہ ملزم پہلے بھی عبوری ضمانت حاصل کرچکاہے اس لئے استدعاہے کہ عدالت عظمٰی بھی میرے موکل کی عبوری ضمانت منظور کر ے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے ان سے کہا کہ اگر عدالت نے ملزم کو عبوری ریلیف دیا تو یہ شاید اگلی عید تک بھی پیش نہ ہو، اس ملک میں وزیراعظم، وزرائے اعلٰی اور دیگربڑے لوگ جیل جا چکے ہیں، آپ کا موکل بھی چلا جائے توکوئی بات نہیں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ نیب کے دانت اور کاٹنے والی چھری کند ہو چکی ہے، جسٹس دوست محمد خان نے استفسارکیا کہ کراچی میں 3 تلوار کیا عوام کے کاٹنے کے لئے بنائی گئی ہے، تو وکیل نے کہا کہ تین تلوار عوام کے لئے نہیں بنائی گئیں بلکہ یہ حضرت علی کی تلوار ہے، توجسٹس دوست محمد نے کہا کہ خدا کرے کہ حضرت علی کی تلوار ہمارے ملک میں آ جائے اور اس سے کرپٹ لوگوں کے بلاامتیاز سر کاٹے جائیں، یہ بااثر تھا اسی لئے اسے دو سال

تک عبوری ضمانتوں پر رکھا گیا۔ در یں اثناءاسی بنچ میں اراضی کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس دوست محمد خان نے ورثاءکے تعین کے معاملے کے حوالے سے کہا کہ ہمارے ملک میں آبادی بڑھ رہی ہے جس کے پیش نظر ہرادارے میں بھرتیاں کی جاتی ہیں آخر ججوں کی تعداد کیوں نہیں بڑھائی جاتی، حکومت کوججوں کی تعداد بڑھانے پرتوجہ دینا ہوگی۔درخواست گزار فیصلوں کاانتظار کرتے کرتے مرجاتے ہیں بعد میں

ان کے ورثا ءکا پتا نہیں چلتا، اورمسائل جنم لیتے ہیں ان کاکہناتھا کہ اس صورتحال میں نظام کے ساتھ وکلاءکی بھی مہربانیاں ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ 21 کروڑ 20 لاکھ عوام میں کون صادق اور امین ہے، اگر کوئی صادق اور امین ہوا بھی تووہ جنگل میں ہی ہوگا اور وہ دنیا سے ملنا جلنا نہیں چاہتا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…