جمعرات‬‮ ، 23 جولائی‬‮ 2026 

ڈاکٹرعاصم کس کو دیکھ کر چیختے چلاتے ہیں، رات بھر کیوں نہیں سوسکتے ؟ دن میں کیا کرتے ہیں ؟ دل دہلا دینے والے انکشافات‎

datetime 29  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی ) سپریم کورٹ کے جج جسٹس دوست محمدنے کہا ہے کہ نیب پلی بار گین کرکے سہولت کاری کا کام سرانجام دیتا ہے اور اس نے ملکی اداروں کو تباہ کردیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق منگل کوسپریم کورٹ میں ڈاکٹر عاصم کی بیرون ملک روانگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں نیب کے وکیل ناصر مغل نے عدالت میں دلائل دیئے کہ ڈاکٹر عاصم پہلے ویل چیئر کا استعال کرتے تھے مگر اب وہ احتساب عدالت

میں بغیر ویل چیئر چلتے پھرتے ہیں۔اس پر جسٹس دوست محمد نے دلچسپ ریمارکس میں کہا کہ میڈیا نے ڈاکٹر عاصم کی ریسلر کی طرح احتساب عدالت میں پیش ہوتے کوریج کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے ڈاکٹر عاصم کی میڈیکل رپورٹس کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔جسٹس دوست محمد نے استفسار کیا، کیا میڈیکل رپورٹس پیش کی گئیں؟ میڈیکل رپورٹس قبول نہیں تو پھر نئی رپورٹ کہاں سے لیں۔دوران سماعت جسٹس دوست محمد نے کہا کہ نیب پلی بارگین کرکے سہولت کاری کا کام سرانجام دیتا ہے اس نے ملکی اداروں کو تباہ کردیا ہے۔جب کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ احتساب عدالت میں ٹرائل مکمل کیوں نہیں ہوا؟ لگتا ہے نیب کیس کو لمبا کرنا چاہتا ہے، نیب دل سے کام کرتا تو اب تک کیس ختم ہو جاتا۔ڈاکٹر عاصم کی رپورٹ کے مطابق ان کو زیادہ نفسیاتی مسائل ہیں ،رینجرز کی وردی کو دیکھ کر بھی چیخیں مارتے ہیں ،رات کو جاگتے ہیں اوردن میں گولیاں کھا کر سوتے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ سنگین مقدمات میں لوگ بیرون ملک جاکربیٹھ جاتے ہیں۔اس موقع پر جسٹس قاضی فائز کا کہناتھا کہ جرائم پیشہ افراداوردہشتگردوں میں فرق ہوتاہے،کالعدم تنظیم کے لوگوں سے تووزیرداخلہ بھی ملتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز کا کہنا تھا کہ نیب پک اینڈ چوز کرتا ہے تو حیرانگی ہوتی ہے، کیا کاروبار کا حق زندگی کے بنیادی حق سے زیادہ اہم ہے، مقدمے کے

شریک ملزم اقبال زیڈ احمد کو کاروبار کے لیے بیرون ملک جانے دیا گیا، قانون کو خرید وفروخت کے لیے استعمال نہ کریں۔انہوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ نیب کسی ایجنڈے کے طور پرکام تو نہیں کررہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…