جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

والد بیٹیوں سے نفرت کرنیوالے انسان ہیں۔۔ بغاوت کر کےگھر چھوڑ دینے والی کنگنا رناوت بالی ووڈ کی سپرہیروئن کیسے بنی؟

datetime 30  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت کا شمار بالی ووڈ کے ان اداکاروں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے بل بوتے پر فلم انڈسٹری میں جگہ بنائی اور بالی ووڈ کی بلندیوں کو چھوا۔ کنگنا رناوت ہماچل پردیش کے ایک چھوٹے سے گائوں منڈی کے راجپوت گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں جہاں پر عورتوں کے حوالے سے انتہائی سخت رویہ اختیار کیا جاتا ہے،

بیٹیوں پر بیٹوں کو فوقیت حاصل ہے اور عورتوں کو اپنے گھروالوں کے سامنے بھی گھونگھٹ نکال کر بیٹھنا پڑتا ہے، یہ باتیں کنگنا رناوت نے بھارتی ٹی وی کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بتائی ہیں۔ ان سے جب سوال پوچھا گیا کہ خواتین کے حوالے سے جب اتنی پابندیاں تھیں تو آپ بالی ووڈ کی سپرسٹار کیسے بن گئیں تو ان کا کہنا تھا کہ میرے والد مجھے ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے جبکہ میرے بھائی کو کمانڈو بننے کا شوق تھا ، ابو اس کے لئے کھلونا پستول اور دیگر چیزیں لے کر آتے تھے۔ جب میں چندی گڑھ کالج میں گئی تو وہاں میں نے منی سکرٹ پہننا شروع کردی جس پر سارے خاندان میں ہنگامہ بھرپا ہوگیا لوگ اور رشتہ دار میرے ابو کو فون کرکے میرے حوالے سے طرح طرح کی خبریں دیتے تھے۔ کالج سے جب میں ایک بار گاؤں گئی تو میری ماں نے غصے اور نفرت سے مجھے کہا کہ تم ایک بدتمیز لڑکی ہو۔کنگنا رناوت کا مزید کہنا تھا کہ میں آزاد زندگی گزارنا چاہتی تھی میں والدین، بھائیوں، خاوند اور بیٹوں کے بکھیڑے سے آزاد ہو کر اڑنا چاہتی ہوں اس لئے میں نے اپنے خاندان اور روایات سے بغاوت کی مجھے اپنے خاندان پر کبھی بھی فخر نہیں ہوا۔ مجھے ایسے لوگوں پر کبھی فخر نہیں ہوتا جو لوگ عورتوں کو دبا کر رکھتے ہیں ، میری بغاوت کے بعد میرے گاؤں کے لوگوں نے مختلف انداز سے سوچنا شروع کردیا ہے،

لڑکیاں اپنی مرضی سے جینا سیکھ چکی ہیں جبکہ نوجوان چارپائیاں توڑنے کی بجائے کام کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں ، گاؤں کے لوگ میرے حوالے سے کہتے ہیں کہ میں ان جیسی کیوں نہیں ہوں ، شکل و صورت میں ان جیسی ہونے کے باجود ان کے جیسا رویہ کیوں نہیں ہے؟ بڑے شہروں کے لوگ دولت کی ہوس میں اندھے ہوکر اسی کے بارے میں سوچتے ہیں جبکہ چھوٹے

شہروں میں لوگ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے۔اپنے لہجے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اب وہ وقت نہیں رہا کہ آپ کا لہجہ انگریزوں والا ہو اسے ہی فلم انڈسٹری میں لایا جاتا ہے میں انگریزی ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہی ہوں لیکن میں اپنے ہماچل پردیش والے لہجے پر بے حد خوش ہوں اور اسی پر فخر محسوس کرتی ہوں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…