منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

حکومت کاعوام کو800ارب کا جھٹکادینے کافیصلہ،قیمتوں میں تباہ کن اضافہ ہوگا،چونکادینے والی تفصیلات منظر عام پر

datetime 29  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) حکومت کا بجلی کے لائن لاسز اور گردشی قرضہ کی 800ارب روپے سے زائد کی رقم صارفین سے وصول کرنے کا فیصلہ لائن لاسز اور گردشی قرضہ کی رقم بجلی کی قیمتیں بڑھاکر وصول کی جائیں گی جس سے بجلی کی قیمتوں میں ہوشر بااضافہ ہو گا، فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں صارفین کو ملنے والے ریلیف کا بھی خاتمہ ہو جائیگا۔

ذرائع کے مطابق بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور گزشتہ گردشی قرضوں کو کم کرنے کے حوالے سے عالمی مالیاتی ادارے کا دباؤ ہے جس کی وجہ سے نیپرا کے آئین میں بھی ترمیم کی جارہی ہے، اب بجلی کی قیمتیں بڑھانے کے حوالے سے وزارت کو نیپراسے اجازت لینے کی ضرورت نہیں پڑیگی حکومت نے ٹیرف اور سرچارج خود مقرر کرنے کا اختیار حاصل کرنے کیلئے مسودہ تیار کر لیا ہے جس کے بعد نیپرا حکومت کی جانب سے مقررہ کردہ ٹیرف اور سرچارج میں کوئی بھی ردبدل نہیں کر سکے گا، واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ دو مالی سالوں سے نیپرا کی طرف سے بجلی ٹیرف میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، ذرائع کے مطابق حکومت نے تمام صوبوں کے تحفظات دور کر دیئے ہیں اور صوبوں نے وفاق کو لیٹرز بھی لکھ دیئے ہیں جس کے بعد اس پر باقاعدہ قانون سازی کی جائیگی جس کے بعد بجلی کے ٹیرف اور سرچارج میں اضافے کی سمری بھی موو کی جائیگی، ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی اداروں کو ملکی بجلی کے شعبہ میں میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضوں کے حوالے سے کافی تحفظات ہیں جس پر انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان قرضوں میں کمی کیلئے بجلی کی قیمتیں بڑھائیں۔ واضح رہے کہ ن لیگ کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی 380ملین روپے کا گردشی قرضہ اداکیا تھا جس میں کرپشن کا اندیشہ بھی ہے اور اس کے بعد گردشی قرضہ ایک مرتبہ پھر کئی سو کروڑ پر پہنچ گیا ہے پی اے سی کے اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے بھی حکومت سے تفصیلات مانگی تھیں کہ گردشی قرضہ بھی ادا کیا گیا، تیل کی قیمتیں بھی کم ہوئیں، بجلی بھی 50 پیسے مہنگی کی گئی لیکن اس کے باوجود اتنا زیادہ گردشی قرضہ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے حکومت جواب دے لیکن وزارت اور حکومت پی اے سی کو مطمئن کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔#/s#۔( وقار؍عباس شاہد)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…