منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پانامہ فیصلے کے خلاف شریف خاندان آخری دائو کھیل گیا

datetime 25  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز اور حسن نواز نے پاناما کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا۔ نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے دونوں صاحبزادوں حسین اور حسن نواز نے پانامہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ حسین ، حسن، مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر کی جانب سے دو نظر ثانی

درخواستیں دائر کی گئیں جن میں سے ایک نظر ثانی درخواست 5رکنی بنچ کے فیصلے کے خلاف جبکہ دوسری نظر ثانی درخواست 3رکنی بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔ درخواست میں موقف اپنا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے سے نہ صرف مقدمے کی شفافیت متاثر ہوئی بلکہ ا س سے اپیل کا حق بھی سلب ہو کر رہ گیا۔جے آئی ٹی کی تحقیقات انصاف کے منافی ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے داماد کیپٹن صفدر کے خلاف لندن فلیٹس کی خریداری کا کوئی الزام یا ثبوت نہیں جبکہ عدالتی فیصلے کے مطابق ان کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ نگران جج کی تعیناتی بھی بنیادی حقوق کے منافی ہےجو کہ آئین کے آرٹیکل 4، 10 اے، 25 اور175 کی خلاف ورزی ہے۔تحقیقات کی روشنی میں عدالت خود شکایت کنندہ بن گئی ، جے آئی ٹی رپورٹ پر اٹھائے گئے اعتراضاات کو درخورد اعتنا تک نہیں برتا گیا۔جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت تین ججز نے کی، دو ججز 20 اپریل کے فیصلے کے بعد بینچ میں نہیں بیٹھ سکتے تھے، تین ججز نے 20 اپریل کے عدالتی فیصلہ پرعمل کرایا، تحقیقات کی نگرانی کیں اوران تین ججز کو جے آئی ٹی رپورٹ پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ نگران جج کی موجودگی میں احتساب عدالت آزادانہ کام نہیں کر سکتی،

آئین احتساب عدالت کی کارروائی کی نگرانی کی اجازت نہیں دیتا جبکہ ٹرائل کورٹ میں مقدمات کا وقت متعین کرنے کا فیصلہ حقوق متاثر کرنے کے مترادف ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف کے دونوں صاحبزادوں ، صاحبزادی اور داماد کی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 28 جولائی کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی درخواست منظورکرتے ہوئے28 جولائی کا فیصلہ

کالعدم قرار دے کر درخواستیں خارج کی جائیں جب کہ نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ ہونے تک 28 جولائی کا فیصلہ معطل قرار دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…